ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 375
مقام محمود دل کی گہرائیوں سے اللہ کی حمد اور شکر گزاری میں بلند ترین سطح پر متمکن محمدصلی للی نام کو اللہ تعالی نے مقام محمود عطا فرمایا۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا لا (بنی اسرائیل: 80) قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر فائز کردے۔مقام محمود میں ایک بہت بڑی پیشگوئی کی گئی ہے دنیا میں کسی شخص کو بھی اتنی گالیاں نہیں دی گئیں۔۔۔م محمود عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان گلیوں کا آپ کو صلہ دیا ہے فرماتا ہے جس طرح دشمن گالیاں دیتا ہے ہم مومنوں سے تیرے حق میں درود پڑھوائیں گے اسی طرح عرش سے خود بھی تیری تعریف کریں گے اس کے مقابل پر دشمن کی گالیاں کیا حیثیت رکھتی ہیں مقام محمود سے مراد شفاعت بھی ہے۔کیونکہ جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے سب اقوام کے لوگ سب نبیوں کے پاس جائیں گے مایوس ہو کر رسول کریم کی تعلیم کے پاس شفاعت کی غرض سے آئیں گے اور آپ صلی یہ نام شفاعت کریں گے اس طرح گویا ان سب اقوام کے منہ سے آپ صلی الم کے لئے اظہار عقیدت کروایا جائے گا جو اس دنیا میں آپ صلی علی کیم کو گالیاں دیتی تھیں اور یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا مقام محمود ہے۔(تفسیر کبیر صفحه 375) حمد کا جھنڈا اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی ال نیلم کی حمد و ستائش کی ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اس نے فیصلہ فرمایا کہ قیامت کے روز جب نفسا نفسی کا عالم ہو گا اور ہر شخص کسی پناہ کی تلاش میں ہو گا تو رسول اللہ صل الم کو ”مقام محمود“ یعنی حمد باری کے انتہائی مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے حمد کا جھنڈا عطا کیا جائے گا۔ابن ماجه في السنن، كتاب الزهد ) آپ کی ایم کی صفت احمد کی شان اس رنگ میں ظاہر ہو گی کہ آپ صلی الی نام پر حمد کے نئے مضامین کھولے جائیں گے اور خدا کے لئے تعریفی کلمات سکھائے جائیں گے۔375