ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 374 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 374

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی ملی کام کے اسم احمد کے متعلق فرماتے ہیں: عربی عبارت سے ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے الفاظ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔میں اپنی حمد بیان فرمائی۔پھر اپنے کلام اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین میں لوگوں کو عبادت کی ترغیب دی۔پس اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت عبادت گزار وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی حمد اس طور پر کرے جو حمد کرنے کا حق ہے۔پس اس دعا اور درخواست کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو احمد بنادیتا ہے جو اس کی عبادت میں لگا رہے۔(اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 165) روئے زمین پر سب سے زیادہ حمد وثنا کرنے والی ذات بابرکات حضرت محمد مصطفی صلی الم کی ہے۔آپ نے اپنے رب سے عشق کا حق ادا کیا۔اپنے مولیٰ کریم کے اوصاف وردِ زبان رہتے۔اُس محبوب کا ذکر آپ مالی ایم کی غذا تھی۔اس کی عبادت میں خشوع و خضوع کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آپ مالی کیم کی تہجد کے نوافل اور نماز آپ کی تسبیح و تحمید کا انداز ایسا والہانہ تھا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔خلوت اور جلوت میں دعا میں سوزو گداز اور پگھل جانے کا عاجزانہ طریق آپ کی یہ کام پر ختم تھا۔جو حمید خدا تعالیٰ کو بہت بھاتا تھا۔شکر گزاری میں عاجزی انکساری اللہ تعالٰی کے فضل کی بارشوں میں اضافہ کر دیتی۔آپ کی تعلیم کے اپنے اللہ کے حضور شکر ادا کرنے اور اس کی حمد بیان کرنے کی کیفیت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس طرح بیان فرماتی ہیں: آنحضرت صلی اللہ نام رات کو نوافل ادا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی ایام کے دونوں پاؤں متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ یہ کس لئے کرتے ہیں؟ حالا نکہ اللہ تعالیٰ آپ کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما چکا ہے۔آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟ (صحیح بخاری حدیث نمبر 4837) آپ صلی یو ایم کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ نہ صرف آپ صلی العلیم نے اللہ تعالی کی سب سے زیادہ حمد و ثنا کی بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ حمد کروانے والے بھی آپ صلی علیم ہیں سب سے زیادہ حمد وثنا کے طریق سکھا نے والے بھی آپ صلی اللہ ظلم ہیں۔374