ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 358
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حضرت رسول کریم صلی الکریم نے پڑوسی، ہمسایہ، ہم دیوار، ہم جوار، ساتھی، ایک ہی چھاؤں یا سایہ میں رہنے والوں سے حسن سلوک بلکہ احسان کے طریق بتائے اور عمل کر کے دکھایا۔دنیاوی مفاد پرست ،نفرت ،تعصب ،تفریق مخاصمت اور عداوت کی دیواریں بلند سے بلند تر کرتے چلے جاتے ہیں جبکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم دلوں کو جیت کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لئے احسان، نیکی، لطف، بخشش، خیر خواہی، مہربانی، شفقت خوش خلقی اور مُروّت کی تعلیم دیتے ہیں۔حسن سلوک کے دائروں کو وسعت دیتے ہوئے پڑوسی کی وضاحت آنحضرت صلی لم یوں فرماتے ہیں: ” پڑوسی تین طرح کے ہیں۔ایک وہ پڑوسی جس کے تین حقوق ہیں، اور دوسرا وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں، اور تیسرا وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے۔تین حق والا پڑوسی وہ ہے جو پڑوسی بھی ہو، مسلمان بھی اور رشتہ دار بھی ہو، تو اس کا ایک حق مسلمان ہونے کا، دوسرا پڑوسی ہونے کا اور تیسرا قرابت داری کا ہو گا۔دو حق والا وہ پڑوسی ہے جو پڑوسی ہونے کے ساتھ مسلم دینی بھائی ہے، اس کا ایک حق مسلمان ہونے کا دوسرا حق پڑوسی ہونے کا ہو گا۔ایک حق والا غیر مسلم پڑوسی ہے۔(جس سے کوئی قرابت ورشتہ داری نہ ہو) اس کے لیے صرف پڑوسی ہونے کا حق ہے۔(شعب الایمان 12/105) پڑوسی خواہ غیر مسلم کیوں نہ ہو شریعت اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتی ہے۔حضور کے چند ارشادات م حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت اقدس محمد مصطفی صل الل علم سے دریافت فرمایا کہ یا رسول الله صل العلم! میرے دو پڑوسی ہیں اگر میں تحفہ دینا چاہوں تو کس کو بھیجوں۔فرمایا: ”جس کا گھر قریب تر ہے وہی تحفہ کا زیادہ مستحق ہے۔“ ( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب حق الجواهر في قرب ابواب )۔”جبرائیل ہمیشہ مجھے پڑوسی سے حسن سلوک کی تاکید کرتا آ رہا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ کہیں وہ اُسے وارث ہی نہ بنا دے۔“ بخاری کتاب الادب باب الوصايا بالجار )۔اے مسلمان عور تو! کوئی عورت اپنی پڑوسن سے حقارت آمیز سلوک نہ کرے اگر بکری کا ایک پایہ 358