ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 332
سارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی تھی۔چنانچہ قریش یہ معاہدہ ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔الوفاء باحوال المصطفى لابن جوزی صفحہ 198 بیروت ) ہر قل شاہ روم نے اپنے دربار میں جب ابو سفیان اس سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے اس مدعی نبوت آنحضرت) پر اس سے پہلے کوئی جھوٹ کا الزام لگایا؟ ابو سفیان نے جواب دیا کہ نہیں ہر گز نہیں۔دانا ہر قل نے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ اس نے لو گوں کے ساتھ تو کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگ جائے۔(بخارى بدء الوحي ) الله رسول اللہ صلی الم کا ایک جانی دشمن نضر بن حارث تھا جو دارالندوہ میں آپ کے قتل کے منصوبے میں بھی شامل تھا۔کفار کی مجلس میں جب کسی نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں محمد (صلی ) کے بارے میں یہ مشہور کر دینا چاہئے کہ یہ جھوٹا ہے تو نضر بن حارث سے رہا نہ گیا۔وہ بے اختیار کہہ اٹھا کہ دیکھو! محمد (صلی ال ) تمہارے درمیان جوان ہوا، اس کے اخلاق پسندیدہ تھے۔وہ تم میں سب سے زیادہ سچا اور امین تھا۔پھر جب وہ ادھیڑ عمر کو پہنچا اور اپنی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرنے لگا تو تم نے کہا جھوٹا ہے۔خدا کی قسم! یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔( السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 صفحہ 320 مصر ) ایک دفعہ اپنے ایک سردار عتبہ کو نمائندہ بنا کر رسول کریم ملی ایم کی خدمت میں بھجوایا گیا۔اس نے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟ آپ کی جو بھی خواہش ہے پوری کرتے ہیں۔آپ ان باتوں سے باز آئیں۔حضور تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورۃ حم فضلت کی چند آیات تلاوت کیں، جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں تو عتبہ نے آپ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور خوف کے مارے اُٹھ کر چل دیا۔اس نے قریش کو جا کر کہا تمہیں پتہ ہے کہ محمد (صلی انی) جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آجائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔تمام سردار یہ سن کر خاموش ہو گئے۔الله سة (السيرة الحلبيه 13 جلد 1 صفحہ 303) 332