ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 316
۔قَالَ إِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ ) اس (یعنی فرعون) نے کہا یقیناً یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور پاگل ہے۔• كَذَلِكَ مَا آتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ) (الشعراء: 28) (الذاريات: 53) اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کی طرف بھی کبھی کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادو کر یا دیوانہ ہے۔گره۔فَإِن كَذَبُوكَ فَقَدْ كُذِبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءَ وَ بِالْبَيِّنَتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَبِ الْمُنِيرِ ) ۱۸۵ (آل عمران: 185) پس اگر انہوں نے تجھے جھٹلا دیا ہے تو تجھ سے پہلے بھی تو رسول جھٹلائے گئے تھے۔وہ کھلے کھلے نشان اور (البی) صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے۔وَلَقَدِ اسْتَهْزِئُ بِرُسُلِ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُوْنَ ) (الانعام: 11) اور یقیناً رسولوں سے تجھ سے پہلے بھی تمسخر کیا گیا۔پس ان کو جنہوں نے ان (رسولوں) سے تمسخر کیا انہی باتوں نے گھیر لیا جن سے وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُونٌ وَاذْدُ جِرَ (ج) (القمر: 10) ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلایا تھا۔پس انہوں نے ہمارے بندے کی تکذیب کی اور کہا کہ ایک مجنون اور دھتکارا ہوا ہے۔ہمارے سراج منیر حضرت محمد مصطفی صلی علی ایم کو بھی اغیار نے ایسے ہی القاب سے نوازا۔آپ نے گالیاں سنیں دکھ سہے، تکالیف بھی برداشت کیں۔مارے پیٹے بھی گئے مگر ہمیشہ صبر کیا۔خدا تعالیٰ کے مطہر مقدس مقرب بندے گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دیتے بلکہ ان کے جہل پر رحم کھا کر انہیں دعا دیتے ہیں اور 316