ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 306 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 306

علیہ السلام اس کے لئے شربت کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔رات کو وہ اٹھا کرتی تو کہتی اتا شربت پینا۔آپ فوراً اُٹھ کر شربت بنا کر اسے پلادیا کرتے تھے۔(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 775 روایت نمبر (879) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سے روایت ہے کہ آپ بچوں کی خبر گیری اور پرورش اس طرح کرتے ہیں کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہو گی اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں اور تیمارداری اور علاج میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں مگر باریک بین دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے او ر خدا کے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی رعایت اور پرورش مد نظر ہے۔آپ کی پلوٹھی بیٹی عصمت لدھیانہ میں ہیضہ سے بیمار ہوئی آپ اس کے علاج میں یوں دوا دہی کرتے کہ گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف اور اصطلاح میں اولاد کا بھو کا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکاہی کر ہی نہیں سکتا۔مگر جب وہ مر گئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔صاحبزادی نواب مبار که بیگم (سیرت مسیح موعود از یعقوب علی عرفانی مبارکہ بیگم 1897ء میں پیدا ہوئیں۔کل گیارہ سال اور چوبیس دن حضرت اقدس کا ساتھ رہا۔ذہین تھیں مشاہدہ اچھا تھا۔آپ کی یادداشت میں محفوظ باتوں سے حضرت اقدس کی بیٹیوں سے پیار محبت اور تعلیم و تربیت کے بارے میں رہنما اصولوں اور ان پر عمل کا علم ہوتا ہے۔تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بیٹوں بیٹیوں میں تفریق نہیں کی صاحبزادی مبارکہ نے تین سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا۔ساڑھے چار سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل پڑھ کے دہرا بھی لیا تھا۔آپؐ نے اردو، حساب، فارسی اور انگریزی بھی پڑھ لی۔شعر کے اوزان کا تعارف بھی ہو گیا۔قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لیے حضرت اقدس نے آپ کو حضرت مولوی عبدالکریم کے پاس بھیجا۔آپ پہلے ترجمہ پڑھنے جاتیں پھر پیر جی سے باقی کتابیں پڑھتیں۔حضرت مولوی عبدالکریم کی وفات کے بعد حضرت حکیم نور الدین خلیفہ (اول) کے پاس ترجمہ سیکھنے کے لیے بھیجا۔اس کے ساتھ آپ نے تجرید بخاری اور کچھ دوسرے مجموعہ احادیث پڑھ لیے۔حضرت پیر صاحب بیمار ہو گئے تو حضرت اقدس نے فارسی خود پڑھائی۔یہ سلسلہ آپ کی مصروفیات کی وجہ سے جاری نہ رہ سکا۔آپ نے فرمایا ” مجھے بہت کام ہوتا ہے۔نہیں چاہتا کہ تمہاری تعلیم میں ناغہ ہو۔مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح 306