ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 304 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 304

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام فرمایا کہ حضرت فاطمہ نے چکی چلانے سے اپنے ہاتھ میں تکلیف کی شکایت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو وہ حضور کی طرف گئیں اور آپ کو نہ پایا۔آپؓ حضرت عائشہ سے ملیں اور ان کو بتایا کہ کس طرح میں آئی تھی۔جب نبی کریم ملا ل ل ل لم تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے حضرت فاطمہ کے اپنے ہاں آنے کا بتایا۔حضرت علی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ہم کھڑے ہونے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔آپ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر بات نہ بتاؤں جو تم نے مانگا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم دونوں اپنے بستروں پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو، تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس وقع الحمد للہ کہو۔یہ تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر ہے۔(صحیح مسلم كتاب الذكر والدعا و التوبة۔۔۔۔باب التسبيح اوّل النهار و عند النوم حدیث نمبر 6915–6918) ہے۔آخر میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ پڑھنے کا بھی ذکر۔اپنی لخت جگر کے حالات دیکھ کر یہ دعا بھی کی کہ کبھی ان کو بھوک کی تکلیف نہ ہو فاطمہ فرماتی ہیں اس کے بعد مجھے کبھی بھوک کی تکلیف نہیں پہنچی۔اولاد کی تربیت کا اتنا خیال تھا کہ شادی کے بعد چھ ماہ تک فجر کی نماز کے وقت حضرت فاطمہ کے دروازے کے پاس سے گزرتے تو فرماتے ”اے اہل بیت نماز کا وقت ہو گیا ہے“ پھر آپ سورہ احزاب کی آیت 33 پڑھتے کہ ”اے اہل بیت! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے“ حضرت علی بن ابو طالب نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ لی لی یکم ایک رات ان کے اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی علیکم ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔جب وہ چاہے کہ ہمیں اٹھائے تو ہمیں اٹھاتا ہے۔آپ صلی الیم نے مجھے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور واپس تشریف لے گئے۔نماز سے مراد تہجد تھی یعنی کہ نماز تہجد اگر نہیں پڑھتے، تہجد کے وقت اگر ہماری آنکھ نہیں کھلتی تو یہ اللہ کی مرضی ہے اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ہمیں اٹھا دے اور جب اٹھا دیتا ہے تو ہم پڑھ لیتے ہیں۔آنحضرت صلی علیم نے کوئی بحث نہیں کی اور واپس تشریف لے گئے۔پھر میں نے آپ کو سنا جبکہ آپ واپس جا رہے تھے۔آپ اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرما رہے تھے کہ 304