ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 303
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام ہو کر رشتے کی درخواست پیش کر دی۔دوسری طرف آنحضرت صلی ال نیلم کو خدائی وحی کے ذریعہ یہ اشارہ ہوچکا تھا کہ حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علی سے ہونی چاہیے۔چنانچہ حضرت علی نے درخواست پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس کے متعلق پہلے سے خدائی اشارہ ہو چکا ہے۔پھر آپ نے حضرت فاطمہ سے پوچھا تو وہ بوجہ حیا کے خاموش رہیں۔یہ بھی ایک طرح کا اظہار رضا مندی تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم نے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کو جمع کرکے حضرت علی اور فاطمہ کا نکاح پڑھایا۔یہ 2 ہجری کی ابتدا یا وسط کا واقعہ ہے۔اس کے بعد جب جنگ بدر ہو چکی تو غالباً ماہ ذوالحجہ 12 ہجری میں رخصتانہ کی تجویز ہوئی اور آنحضرت صلی الم نے حضرت علی کو بلا کر دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے کچھ ہے یا نہیں؟۔۔۔حضرت علی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میرے پاس تو کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا وہ زرہ کہاں ہے جو میں نے اس دن یعنی بدر کے مغانم میں سے تمہیں دی تھی؟ حضرت علی نے عرض کیا وہ تو ہے۔آپ نے فرمایا بس وہی لے آؤ۔چنانچہ یہ زرہ چار سواسی درہم میں فروخت کر دی گئی اور آنحضرت صلی الم نے اسی رقم میں سے شادی کے اخراجات مہیا کیے۔جو جہیز آنحضرت صلی ا لم نے حضرت فاطمہ کو دیا وہ ایک بیل دار چادر، ایک چمڑے کا گدیلا جس کے اندر کھجور کے خشک پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مشکیزہ تھا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے جہیز میں ایک چکی بھی دی تھی۔جب یہ سامان ہو چکا تو مکان کی فکر ہوئی۔حضرت علی اب تک غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کے کسی حجرے وغیرہ میں رہتے تھے مگر شادی کے بعد یہ ضروری تھا کہ کوئی الگ مکان ہو جس میں خاوند بیوی رہ سکیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ اب تم کوئی مکان تلاش کرو جس میں تم دونوں رہ سکو۔حضرت علی نے عارضی طور پر ایک مکان کا انتظام کیا اور اس میں حضرت فاطمہ کارخصتانہ ہو گیا۔اسی دن رخصتانہ کے بعد آنحضرت صلی ای ام ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور تھوڑا سا پانی منگوا کر اس پر دعا کی اور پھر وہ پانی حضرت فاطمہ اور حضرت علی شہر دو پر یہ الفاظ فرماتے ہوئے چھڑ کا کہ اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا وَبَارِكْ عَلَيْهِمَا وَبَارِكَ لَهُمَا نَسْلَهُمَا یعنی اے میرے اللہ ! تو ان دونوں کے باہمی تعلقات میں برکت دے اور ان کے ان تعلقات میں برکت دے جو دوسرے لوگوں کے ساتھ قائم ہوں اور ان کی نسل میں برکت دے اور پھر آپ اس نئے جوڑے کو اکیلا چھوڑ کر واپس تشریف لے آئے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صفحه 455 - 456) حضرت فاطمہ اپنی تنگدستی اور غربت کے باوجود زہد و قناعت کا نمونہ دکھایا کرتی تھیں۔حضرت علیؓ نے بیان 303