ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 302 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 302

حضرت ام کلثوم حضرت عثمان کے ہاں 9 ہجری تک رہیں اس کے بعد وہ بیمار ہو کر وفات پا گئیں۔رسول اللہ کی تعلیم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی قبر کے پاس بیٹھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام کلثوم کی قبر کے پاس اس حال میں بیٹھے ہوئے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔(سيرة امير المؤمنين عثمان بن عفان شخصیته و عصره از علی محمد الصلابی صفحہ 42، المبحث الثالث: ملازمته للنبى فى المدينة / وفاة ام كلثوم،دارالمعرفة بيروت 2006ء) حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا معروف روایات کے مطابق آپ کی پیدائش مکہ میں بعثت نبوی کے پہلے سال ہوئی چال ڈھال طور اطوار میں آنحضور سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں کم سنی میں والدہ کی وفات ہو گئی اور والد کے اعلان نبوت کی وجہ سے شدید دشمنی کا آغاز ہو گیا۔آپ کو ہر روز اذیت کے ایک نئے انداز کا سامنا کرنا پڑتا۔نبوت کے ابتدائی سال انتہائی تکلیف دہ تھے ابو طالب کی وفات کے بعد تو ان کا ہاتھ اور بھی کھل گیا۔ایک دفعہ کسی ظالم نے آپ کے سر پر خاک ڈال دی ننھی فاطمہ باپ کا سر دھوتی اور روتی جارہی تھیں۔آپ نے تسلی دی بیٹی رو نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کا محافظ ہے۔ایک دن آپ نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں گئے تو مخالفین نے اونٹ کی بچہ دانی لا کر آپ کی پیٹھ پر رکھ دی وہ اتنی گندی بدبودار اور بوجھل تھی کہ آپ سجدے سے اٹھ نہ سکتے تھے۔کم سن حضرت فاطمہ نے روتے روتے اپنے ہاتھوں سے بچہ دانی ہٹائی۔آپ کو غزوات میں شریک ہو کر بھی خدمت کی توفیق ملی۔جنگ احد میں آنحضور کے لہو لہان زخمی چہرہ مبارک کی مرہم پٹی کی۔حضرت فاطمہ زخم دھو رہی تھیں اور حضرت علی ڈھال میں سے پانی ڈال رہے تھے۔جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ پانی خون کو اور نکال رہا ہے تو انہوں نے بوریہ کا ایک ٹکڑا لیا اور اس کو جلایا اور ان کے ساتھ چپکا دیا۔اس سے خون رک گیا اور اس دن آپ کا سامنے والا دانت بھی ٹوٹ گیا تھا اور آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ کا خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔( صحیح البخاری کتاب المغازی باب ما اصاب النبی ﷺ من الجراح يوم احد حدیث نمبر 4075 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد تحریر فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ ہم اپنی اولاد میں سب سے زیادہ حضرت فاطمہ کو عزیز رکھتے تھے اور اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے وہی اس امتیازی محبت کی سب سے زیادہ اہل بھی تھیں۔اب ان کی عمر کم و بیش پندرہ سال کی تھی حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر 302