ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 290 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 290

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام وہ ماہ تمام اُس کا، مہدی تھا غلام اُس کا روتے ہوئے کرتا تھا وہ ذکر مدام اُس کا حضرت مسیح موعود نے جو آنحضرت صلی اللی علم کے سچے عاشق تھے نہ صرف اپنے آقا و مطاع کے اسوۂ حسنہ پر من و عن عمل کر کے تمام عمر انسان دوستی کا طریق اپنایا بلکہ اسلام کے چہرے سے مذہب میں جبر ، سزا، زبر دستی، طاقت کے استعمال اور تشدد کا الزام غلط اور ناجائز ثابت کیا۔اسلام کی امن و آشتی اور صلح و صفائی کی اصل تصویر دنیا کو دکھائی اور باور کرایا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اپنی حسین تعلیم سے دنیا میں پھیلا ہے۔اسلام کی ترقی پہلے بھی ایک فانی فی اللہ کی دعاؤں کا نتیجہ تھی اور اس زمانہ میں بھی ایک فانی فی اللہ کی دعاؤں سے ہو گی ان شاء اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کو بیک وقت سارے جھوٹے مذاہب سے جنگ کرکے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کا فریضہ سونیا گیا تھا۔اس چو مکھی لڑائی کے لئے دلائل اور دعا کا ہتھیار دیا گیا۔لڑائی صرف تھی انسانوں سے نہیں تھی۔انسانوں کے دل جیتنے کے لئے رفق، نرمی، عفو، در گزر اور اخلاق سے کام لینے کا ارشاد فرمایا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گزرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔پس جو لوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے، وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔غلط عقائد سے تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 حاشیہ صفحہ 167) یہ جہالت اور سخت نادانی ہے کہ اس زمانے کے نیم ملا فی الفور کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً مسلمان کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تھی اور انہی شبہات میں ناسمجھ پادری گرفتار ہیں مگر اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہو گی کہ یہ جبر اور تعدی کا الزام اس دین پر لگایا جائے جس کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ لا اكبر الا في الدِّينِ (البقرہ: 257) یعنی دین میں جبر نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نبی صلی علیکم اور آپ کے بزرگ صحابہ کی لڑائیاں یا تو اس لئے تھیں کہ کفار کے حملے سے اپنے تئیں بچایا جائے اور یا اس لئے تھیں کہ امن قائم کیا جائے اور جو لوگ تلوار سے دین کو روکنا چاہتے ہیں، ان کو تلوار سے پیچھے ہٹایا جائے۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 158) 290