ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 271
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت پیغام۔م سنتے ہی فوراً سیا لکوٹ سے روانہ ہو گئے۔لیکن جب قادیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کی مشفق و مہر بان اور جان سے پیاری والدہ آپ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکی ہیں۔گھر میں پیشانی پر بوسہ دینے والی کھلی بانہوں سے استقبال کرنے والی ہر سر دو گرم میں سائباں سایہ سینہ سپر ماں 18 اپریل 1867ء کو اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ آپ کو بہت صدمہ ہوا کیو نکہ وہ آپ کی مزاج دان تھیں اور نیکی کے رجحان کی قدر دان تھیں۔ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھیں۔کچھ ہی عرصہ پہلے آپ کو کپڑوں کے چار جوڑے سیا لکوٹ بھجوائے تھے۔( تاریخ احمدیت صفحہ 83) آپ جب بھی اپنی والدہ کا ذکر فرماتے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ایک چشم دید واقعہ حضرت عرفانی صاحب نے یوں بیان فرمایا ہے کہ ان دعاؤں کا تو ہمیں پتہ نہیں جو آپ اپنے والدین کے لئے کرتے ہوں گے مگر والدہ صاحبہ کی محبت کا ایک واقعہ اور جوش دعا کا ایک موقعہ میری اپنی نظر سے گزرا ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود سیر کے لئے اس قبرستان کی طرف نکل گئے جو آپ کے خاندان کا پرانا قبرستان موسوم بہ شاہ عبد اللہ غازی مشہور ہے راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ والدہ صاحبہ کی قبر پر آئے اور بہت دیر تک آپ نے اپنی جماعت کو لے کر جو اس وقت ساتھ۔تھی دعا کی اور کبھی حضرت مائی صاحبہ کا ذکر نہ کرتے کہ آپ چشم پر آب نہ ہو جاتے۔حضرت صاحب کا عام معمول اس طرف سیر کو جانے کا نہ تھا مگر اس روز خصوصیت سے آپ کا ادھر جانا اور راستہ سے کترا کر قبرستان میں آ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا کسی اندرونی آسمانی تحریک کے بدوں نہیں ہو سکتا۔“ حیات احمد جلد اول صفحہ 221) حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب نے حضور کی اپنی والدہ سے محبت کا ذکر یوں فرمایا ہے: خاکسار راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی حضرت مسیح موعود اپنی والدہ کا ذکر فرماتے تھے یا آپ کے سامنے کوئی دوسرا شخص آپ کی والدہ کا ذکر کرتا تھا تو ہر ایسے موقعہ پر جذبات کے ہجوم سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے اور آواز میں بھی رقت کے آثار ظاہر ہونے لگتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت آپ کا دل جذبات کے تلاطم میں گھرا ہوا ہے اور آپ اسے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آپ کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا اور وہ ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں اور 271