ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 265
والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قومیں چوہڑے چمار بھی کم لیتے ہونگے۔ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اور رسول اللہ لی ایم کی پاک ہدایت کا بتلا دینا ہے۔اگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کر کے اس کو ماننا نہیں چاہتا، تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ ایسے نمونے سے دوسروں کو ٹھو کر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے۔میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ مادر پدر آزاد کبھی خیر و برکت کا منہ نہ دیکھیں گے۔پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور وفاداری کے رنگ میں خدا رسول کے فرمودہ پر عمل کرنے کو تیار ہو جاؤ۔بہتری اسی میں ہے، ور نہ اختیار ہے۔ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 195 – 196) حضرت اویس قرنی کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب تک والدہ زندہ رہیں ان کی تنہائی کے خیال سے حضرت اویس قرنی نے حج نہیں کیا اور ان کی وفات کے بعد حج کا فریضہ ادا کیا۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له أويس ) شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی کے والد صاحب احمدیت کے سخت مخالف تھے حضرت مسیح موعود ان کے حالات دریافت فرماتے رہے اور نصیحت فرمائی کہ: ”ان کے حق میں دعا کیا کرو ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔دل و جاں سے ان کی خدمت بجا لاؤ۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 294) پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی والدہ کے بارہ میں ہے کہ وہ قادیان آئی ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اور ان کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکر کیا یعنی بڑھاپے اور کمزوری کا تو حضرت نے فرمایا: 265