ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 249
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 34 طنز و مزاح میں شگفتگی قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا هُوَ خَيْرٌ مِنَا يَجْمَعُونَ ) (یونس: 59) تجو کہہ دے کہ (یہ) محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے۔پس اس پر چاہئے کہ وہ بہت خوش ہوں۔الا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس: 63) سنو کہ یقینا اللہ کے دوست ہی ہیں جن پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔جو لوگ خدا کے ہو کے رہتے ہیں ان کو کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہتا اور وہ غم نہیں کرتے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 229) آنحضور صلی الی یک نفس مطمئنہ رکھتے تھے اور مقام رضا پر فائز تھے اطمینان قلب نصیب تھا۔بشاشت اور لطیف حس مزاح رکھتے تھے آپ کے کھلے کھلے متبسم چہرہ، خندہ پیشانی، شائستہ گفتگو سے ماحول روشن اور خوشگوار رہتا۔آپ کی ذات بابرکات میں رؤوف و رحیم خدا کی صفات کا رنگ نظر آتا۔نور کی کرنیں مخاطبین کے دل موہ لیتیں۔آپ لطیف اور پاکیزہ مزاح، صاف ستھرا اور سچا مذاق کرتے تھے۔حق اور سچ سے ہٹ کر کوئی بات نہ ہوتی حتی کہ زیب داستاں کے لئے رنگ آمیزی اور مبالغہ آرائی بھی نہ کرتے۔حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ رسولِ ارمیلی لی ہم نے فرمایا، میں مزاح تو کرتا ہوں، لیکن ہمیشہ سچ کہتا ہوں۔(مشکوۃ صفحہ 416) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ حضور صلی نیلام گھر میں ہمیشہ خوش اور ہنستے مسکراتے وقت گزارتے تھے۔(شرح مواهب اللدنيه للزرقانی جلد 4 صفحہ 253 249