ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 250
حضور صلی ال نیم سب سے زیادہ کریم الاخلاق تھے، ہنتے اور مسکراتے بھی تھے۔لیکن آپ کی تعلیم کی شان ظرافت، خوش طبعی، دل لگی اور دل آویز تبتسم اعتدال اور میانہ روی کا مرقع تھا۔میں نے آنحضرت صلی الم کو کبھی زور سے قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔آپ کا ہنسنا تبسم کے انداز سے ہوتا تھا۔(صحیح بخاری کتاب الادب باب التبسم) ہے، حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم کے مدینہ منورہ میں ابتدائی زمانے کے ایک سفر کا ذکر میں لڑکی سی تھی، ابھی موٹا پا نہیں آیا تھا۔نبی کریم نے قافلہ کے لو گوں کو آگے جانے کی اجازت دے دی۔پھر مجھے فرمانے لگے آؤ، دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں۔میں نے دوڑ لگائی تو آپ سے آگے نکل گئی۔حضور خاموش رہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعد میں جب میرا جسم کچھ فربہ ہو گیا اور وزن بڑھ گیا ہم ایک اور سفر کے لیے نکلے۔رسول اللہ نے پھر قافلہ سے فرمایا کہ آپ لوگ آگے نکل جائیں اور مجھے فرمایا آؤ آج پھر دوڑ لگاتے ہیں۔ہم نے دوڑ لگائی اس دفعہ رسول کریم آگے نکل گئے اور مسکراتے ہوئے فرمانے لگے لو پہلی دفعہ تمہارے جیتنے کا بدلہ بھی آج اُتر گیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 264) حضرت عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی اور شخص کو نہیں دیکھا۔(سنن ترمذی ابواب المناقب باب بشاشته النبی) حضرت سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ سے پوچھا کہ کیا آپ حضور کی مجالس میں بیٹھا کرتے تھے ؟ فرمایا بہت کثرت کے ساتھ۔حضوراً فجر کی نماز پڑھانے کے بعد جائے نماز پر ہی سورج طلوع ہونے تک تشریف فرما رہتے تھے۔صحابہ آپس میں زمانہ جاہلیت کی باتیں کر کے ہنسا کرتے تھے اور حضور بھی ان کے ساتھ تبسم فرمایا کرتے تھے۔صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تبسم) ایک دفعہ ایک شخص حضور صلی اللہ نیم کے پاس آیا اور آپ سے اپنے لئے سواری مانگی۔حضور نے فرمایا ٹھیک ہے 250