ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 243 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 243

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ہے اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں اس کے شامل حال ہو رہی ہیں اور تعلیم وہ لایا ہے جس کے مقابل پر تمہارے عقائد سراسر گندے اور ناپاک اور شرک سے بھرے ہوئے ہیں تو پھر اس کے بعد تمہیں اس نبی کے صادق ہونے میں کونسا شک باقی ہے۔اسی طور سے خدا تعالیٰ نے میرے مخالفین اور مکذبین کو ملزم کیا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ 512 میں میری نسبت یہ الہام ہے جس کے شائع کرنے پر ہیں برس گذر گئے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ یعنی ان مخالفین کو کہہ دے کہ میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ اور خدا نے ناپا کی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدر مدت دراز تک نہیں ہے یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ بر خلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے لگا۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 281 - 283) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ آپ کے عکس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس دلیل کو اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا ہے۔فرمایا: تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دعا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہو گا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“ ( تذكرة الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64) تاریخ نے آپ کے ماموریت سے پہلے کے سب حالات محفوظ رکھے ہیں۔بہت چھوٹی عمر سے آپ کی خوبیاں دوسروں کو متاثر کرنے لگی تھیں۔ایک دفعہ جبکہ ابھی آپ بچہ تھے مولوی غلام رسول صاحب قلعہ میاں سنگھ کے پاس گئے جو ولی اللہ و صاحب کرامات تھے۔اس مجلس میں کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔باتوں باتوں میں مولوی صاحب نے فرمایا: 243