ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 235 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 235

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 208) یا حفیظ یا عزیز یا رفیق“۔یعنی اے حفاظت کرنے والے! اے عزت والے اور غالب! اے دوست اور ساتھی! فرمایا ”رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا۔“ (البدر جلد 2 نمبر 53 صفحہ 28 مورخہ 18 ستمبر 1903ء) آپ کی اولاد کے لئے الہی بشارتیں موجود تھیں لیکن اس نے آپ کو دعاؤں سے بے نیاز نہیں کیا تھا۔آپ کی نظم نثر میں درد مندی سے اولاد کے لئے دعائیں موجود ہیں: مرے مولیٰ مری اک دعا ہے تری درگاہ میں عجز و بکا ہے وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم و حیاء ہے مری اولاد جو تیری عطا ہے اک کو ہر دیکھ لوں وہ پارسا ہے تری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ سب دے ان کو جو مجھ کو دیا ہے گناہوں کی بخشش کی منظوم دعا اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش روشنی بخش در دل و جانم پاک کن از گناه پنهانم (در ثمین اردو) 235