ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 230
الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ ( ترمذی کتاب الدعوات ) اے اللہ ! ہم تجھ سے وہ تمام خیر و بھلائی مانگتے ہیں جو تیرے نبی صلی علی رام نے تجھ سے مانگی اور ہم تجھ سے ان باتوں سے پناہ چاہتے ہیں جن سے تیرے نبی محمدعلی ایم نے پناہ چاہی۔تو ہی ہے جس سے مدد چاہی جاتی ہے۔پس تیرے تک دعا کا پہنچانا لازم ہے۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام بھی اپنے آقا و مطاع کی اتباع میں انتہائی عاجزی سے دعائیں کرتے۔آپ کو بھی ماموریت کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کامیابی کے وعدے دئے تھے مگر ان وعدوں نے آپ کو مانگنے سے بے نیاز نہیں کیا۔وہی سوزو گداز وہی اضطرار وہی پروردگار کے مجیب ہونے پر حق الیقین وہی عاجزی اور انکساری وہی خود کو آستانہ الوہیت پر گرا دینا۔آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔آپ فرماتے ہیں: دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ سے ہو گا“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 36 ایڈیشن 1988ء) ”میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔“ آپ کو یہ یقین کامل تھا کہ: (بركات الدعاء روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 11) دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سر سبز کر سکتی ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہے اس میں بڑی تاثیریں ہیں۔66 230 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 100)