ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 213
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 30 جانوروں اور پرندوں کے لئے رحمت زہے خُلقِ کامل زہے حسنِ تام عليك الصلوة عليك السلام رحیم و کریم مالک کل نے حضرت نبی کریم صلی ال نیلام کو کل عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ نہ صرف انسانوں کے حقوق کا خیال رکھتے اور رکھواتے تھے بلکہ حیوانوں اور حشرات الارض کے حقوق ادا کرنے کی بھی تلقین فرمائی ان کے لئے نرمی اور ہمدردی کا درس دیتے تھے۔مکہ مدینہ میں جانور گھروں میں پالنے کا رواج تھا۔جانور ان کی بہت سی ضروریات پوری کرتے تھے خوراک کے کام آتے تھے سواری بھی اونٹ، خچر اور گدھے پر ہوتی تھی کھالوں سے مشکیزے بنتے تھے۔غرضیکہ روزانہ زندگی کا اہم ح حصہ تھے۔بلی ایک پالتو جانور ہے۔اس کی خوراک وغیرہ کا خیال رکھنے کے لئے آپ نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اُس نے اُس بلی کو (کسی جگہ) بند کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھو کی مر گئی۔وہ عورت اُس کی وجہ سے دوزخ میں داخل کی گئی۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جب اس نے بلی کو باندھا تو نہ اُسے کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی اُسے کھلا چھوڑا کہ وہ (خود) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیا کرتی۔( صحیح مسلم کتاب السلام باب تحريم قتل الهرة ) اسی طرح آپ نے ایک کتے کی کہانی سنا کر جانوروں کو پانی پلانے کے ثواب کا ذکر فرمایا کہ ایک کتا کسی کنوئیں کے گرد گھوم رہا تھا۔قریب تھا کہ وہ پیاس سے مر جائے۔اچانک اُسے بنی اسرائیل کی ایک بد کار عورت نے دیکھ لیا۔اُس نے اپنا موزہ اُتارا اور اُس سے پانی نکال کر کتے کو پلا دیا۔اُس کے اس عمل کی وجہ سے اُس کی مغفرت فرما دی گئی۔( صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقى البهائم ) کتے کو پانی پلانے کے ثواب کا ایک دوسری جگہ بھی ذکر ہے۔واقعہ کتے کا ہے لیکن سبق یہ ملتا ہے کہ جانداروں کی ضرورت پوری کرنا اللہ پاک کو کس قدر پسند ہے حضور صلی الم نے فرمایا: ” یک شخص پیدل 213