ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 194 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 194

اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 49) ہندوستان میں حضرت اقدس علیہ السلام ایک مذہبی سکالر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے اور عام مسلمان سمجھتے تھے کہ یہی شخص اس تاریک دور میں اسلام کے دفاع کے لئے علم اور صلاحیت رکھتا ہے۔مگر جوں ہی آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماموریت کا اعلان فرمایا اور سب ادیان پر اسلام کی حقانیت ثابت کی تو ہندو، سکھ، عیسائی اور متعصب مسلمان سب آپ کے خلاف ہو گئے۔فرد واحد غیر معمولی جواں مردی کے ساتھ خم ٹھونک کے میدان میں آ گیا۔اللہ پاک نے اسے اس دور کے لئے یضع الحرب کا ارشاد فرمایا تھا اور تیر و تلوار کی جگہ دعاء قلم اور قرآنی علوم سے لیس کیا تھا یہی وہ ذوالفقار تھی جو حق و باطل کی جنگ میں ہتھیار بنی۔زندہ خدا، زندہ قرآن اور زندہ رسول صلی ال نیم کا تعارف کرایا۔اسلام کی حمایت اور دفاع میں براہین احمدیہ تصنیف کی۔جو جنگ روحانی کے لئے اسلحہ خانہ تھا۔کو تاہ اندیش مولوی جن کو اپنی جہالت کی دکانیں بند ہونے کا خوف پیدا ہو گیا تھا آپ کے معاون و مدد گار بننے کی بجائے آپ کی مخالفت میں اُٹھ کھڑے ہو گئے۔یہی وہ دشمن دین تھے جنہیں ہر میدان بدر و احد میں آپ کی غیرت دینی اور جوش و تپش نے دعا اور دلائل علمی کی تیز تلوار سے دندان شکن شکست دی۔جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار اے خدا! شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار آپ وہ شجاع تھے کہ للکار للکار کر مقابلے کی دعوت دیتے اور تحدی سے اپنی فتح کا قبل از وقت اعلان فرماتے۔ان مہمات دینیہ میں سر فروشی اور فتح کا یقین آپ کے ہی پر شوکت الفاظ میں درج ہے: اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہو گا۔دیکھو! میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسر اور محدث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اور بلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور 194