ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 195 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 195

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہر وردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں۔اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں۔اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذوالبر وزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔مجھے خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی نشان دکھلاؤں یا شان محمدی کی طرز سے حقائق و معارف اور نکات اور اسرار شریعت بیان کروں اور میدان بلاغت میں قوت ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہو گا اور اُس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہو گا اور آدھا حصہ محمد کی شان کا سو وہی میں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے جس نے پر کھنا ہو پر کھے مبارک وہ جو اب بخل نہ کرے اور نہایت بد بخت وہ جو روش روشنی پا کر تاریکی کو اختیار کرے۔“ اور۔نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 407 - 408) چونکہ میں حق پر ہوں اور دیکھتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اور اُن کے علماء اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اور اُن کے صلحاء اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کاذب خیال کر کے پھر میرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر اور وہ محبوب حقیقی اپنی خاص عنایات اور اپنے علوم لدنیہ اور معارف روحانیہ کے القاء کی وجہ سے میرے ساتھ ہے یا اُن کے ساتھ۔تو بہت جلد اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیا جاتا ہے اسی عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ کوئی شخص اس بیان کو تکبر کے رنگ میں نہ سمجھے بلکہ یہ تحدیث نعمت کی قسم میں سے ہے وذلک فضل الله يُوتِه مَن يَشَاءُ“ ہے۔(ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 478 - 479) 195