ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 180 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 180

اور سورۃ النساء میں فرمان ہے: ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيْعَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ (النساء: 80) جو بھلائی تجھے پہنچے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور جو ضرر رساں بات تجھے پہنچے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہوتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم میں آیا کہ لوگ آنحضرت صلی الم کی طرف منسوب کر کے کہہ رہے ہیں کہ نحوست اور بد شگونی گھر ، عورت اور گھوڑے سے ہوتی ہے۔آپ رضی اللہ عنہا یہ سن کر سخت ناراض ہو ئیں، اور فرمایا: ”خدا کی قسم! جس نے محملا لی ہم پر قرآن اتارا ہے رسول اللہ صلی علیم نے ایسا ہر گز نہیں فرمایا بلکہ آپ صلی علیکم نے تو فرمایا تھا کہ اہل جاہلیت ان تین چیزوں کے متعلق نحوست اور بد شگونی کے قائل تھے“۔(مسند احمد بن حنبل الملحق المستدرك من مسند الانصار ، مسند الصديقه عائشة بنت الصديق 26562 ) دین اسلام میں آج تک جتنی بھی رسوم، رواج، تبدیلیاں اور بدعات داخل ہوئی ہیں ان کی بنیادی وجہ احکام الہی کو نہ سمجھنا، توہم پرستی اور دیگر مذاہب باطلہ کی بلا سوچے سمجھے پیروی شامل ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الم نے فرمایا: بنیادی طور پر کسی دوسرے سے بیماری کے لگ جانے اور بد فالی لینے کا خیال وہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔یعنی اس بارہ میں خواہ مخواہ کے وہم سے بچنا چاہئے۔آپ صلی علی کریم نے فرمایا کہ مجھے نیک فال پسند ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ نیک فال کیا ہے ؟ آپ صلی الی یکم نے فرمایا پاکیزہ کلمہ یعنی اچھی بات کہنا اور اچھی بات سے اچھا نتیجہ نکالنا۔بخاری کتاب الطب باب الفال ) تمام گھڑیاں، دن، مہینے اور سال اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں نیک کام کریں تو مبارک اور بد کریں تو منحوس ہو جاتے ہیں۔ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی دن کسی کے لئے مبارک اور کسی کے لئے منحوس ہو جیسا کہ قرآن پاک میں قومِ عاد کی سزا کے دنوں کے بارے میں فرمایا: 180