ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 181 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 181

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اس نے اُسے اُن پر مسخر کئے رکھا سات راتوں اور آٹھ دن تک اس حال میں کہ وہ انہیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک رہی تھی۔پس قوم کو تو اُس میں پچھاڑ کھا کر گرا ہوا دیکھتا ہے جیسے وہ کھجور کے گرے ہوئے درختوں کے تنے ہوں۔(الحاقة: 8) اور ان سات راتوں اور دنوں کو ان کے لئے منحوس قرار دیا ورنہ تو سارے دن ان کے لئے منحوس تھے۔پس ہم نے سخت منحوس دنوں میں اُن پر ایک تیز آندھی چلائی تا کہ ہم انہیں (اس) دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقیناً آخرت کا عذاب زیادہ رُسوا کن ہے اور وہ مدد نہیں دیئے جائیں گے۔(حم السجدة: 17) نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اچھا کام کریں تو بابرکت اور برا ہو تو منحوس۔کسی دن کو منحوس نہیں کہہ سکتے۔منگل کے دن کے بارے میں آنحضرت صلی اللی علم کے ارشاد کی حکمت آپ کی یو ایم کے عاشق صادق نے خوب سمجھی۔بلکہ اس کی خوب وضاحت فرمائی تاکہ توہمات کا سلسلہ شرک تک نہ لے جائے۔حضرت نواب مبار کہ بیگم رضی اللہ عنہا کی پیدائش کا مرحلہ تھا منگل کو ولادت متوقع تھی آپ نے دعا کی کہ: ”خدا اسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے“ اس کی وضاحت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ رضی اللہ عنہا نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنوں میں سے منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے نیز بیان کیا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی رضی اللہ عنہ نے کہ جب مبار کہ بیگم (ہماری ہمشیرہ) پیدا ہونے لگی تو منگل کا دن تھا اس لئے حضرت صاحب نے دعا کی کہ خدا اسے منگل کے تکلیف دہ اثرات سے محفوظ رکھے خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا ہوئے تھے اور فوت ہوئے منگل کے دن اور جاننا چاہئے کہ زمانہ کی شمار صرف اہل دنیا کے واسطے ہے اور دنیا کے واسطے واقعی آپ کی وفات کا دن ایک مصیبت کا دن تھا۔اس روایت سے یہ مراد نہیں ہے کہ منگل کا دن کوئی منحوس دن ہے بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ منگل کا دن بعض اجرام سماوی کے مخفی اثرات کے ماتحت اپنے اندر سختی اور تکلیف کا پہلو رکھتا ہے چنانچہ منگل کے متعلق حدیث میں بھی آنحضرت صلی الم کا یہ قول آتا ہے کہ منگل وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ 181