ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 174
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام الله سة اخلاق محمدی کا کامل پرتو حضرت مسیح موعود اخلاق محمد صلی علیم کا کامل پر تو تھے آپ نے اُس سراج منیر سے روشنی کا ایسا اکتساب کیا کہ خود بدر کامل بن گئے اور دور حاضر میں آپ کی سنت کا احیا کر کے دکھایا دشمن کو معاف کرنے اس کے حق میں دعا کرنے اور تالیف قلوب کے لئے حسن سلوک کرنے میں خلق محمدی کا عکس نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی فرمایا تھا وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا سب لو گوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 603) تَلَطَّف بالناس وترحم عَلَیهِم یعنی تو لوگوں کے رفق اور نرمی سے پیش آ اور ان پر رحم کر۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحه 605) خدا کی عدالت کافی ہے میرٹھ سے احمد حسین شوکت نے ایک اخبار شحتہ ہند جاری کیا ہوا تھا۔یہ شخص اپنے آپ کو مجدد السنتہ المشرقیہ کہا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں اس نے اپنے اخبار کا ایک ضمیمہ جاری کیا جس میں ہر قسم کے گندے مضامین مخالفت میں شائع کرتا اور اس طرح پر جماعت کی دل آزاری کرتا۔میر ٹھ کی جماعت کو خصوصیت سے تکلیف ہوتی۔کیو نکہ وہاں سے ہی وہ گندہ پرچہ نکلتا تھا۔1/2 کتوبر 1902ء کا واقعہ ہے کہ میرٹھ کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب شیخ عبدالرشید صاحب جو ایک معزز زمیندار اور تاجر ہیں تشریف فرما تھے۔حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ ضمیمہ شحیہ ہند کے توہین آمیز مضامین پر عدالت میں نالش کر دوں۔حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا ”ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے۔یہ گناہ میں داخل ہو گا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔“ (ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 108 – 109) 29 جنوری 1904ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ایک گالیاں دینے والے اخبار کا تذکرہ آیا کہ فلاں اخبار جو ہے بڑی گالیاں دیتا ہے۔آپ نے فرمایا صبر کرنا چاہئے۔ان گالیوں سے کیا 174