ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 147 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 147

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام رَبِّ هَذِهِ يَدَايَ وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِى - يَا عَظِيمًا يُرجى لِكُلِّ عَظِيمٍ اغْفِرِ الذَنْبَ العَظِیم کہ اے اللہ ! تیرے لئے میرے جسم و جان سجدے میں ہیں میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔اے میرے رب! یہ میرے دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔اے عظیم ! جس سے ہر عظیم بات کی امید کی جاتی ہے، عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ! جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لئے کہا ہے۔تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو۔جو شخص یہ کلمات پڑھے سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔(مجمع الزوائد للهيثمي كتاب الصلوة باب ما یقول فی رکوعہ و سجوده ) آپ کو یہ کسی طرح گوارا نہیں تھا کہ آرام دہ بستر پر سوئیں اور گہری نیند ہو جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔حضرت حفصہ روایت کرتی ہیں کہ : ایک رات انہوں نے بستر کی چادر کی چار نہیں کر دیں، ذرا نرم ہو گیا۔تو صبح آپ نے فرمایا رات تم نے کیا بچھایا تھا۔اسے اکہر اگر دو یعنی ایک رہنے دو۔اس نے مجھے نماز سے روک دیا۔الشمائل النبوية للترمذى باب ما جاء فى فراش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری یا کسی اور وجہ سے تہجد رہ جاتی تھی تو آنحضور صلی المی دن کو بارہ رکعتیں نوافل ادا کیا کرتے تھے۔( صحیح مسلم کتاب صلاة المسافرين باب جامع صلاة الليل و من نام عنه او مرض ) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیمار تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج بیماری کا اثر آپ پر نمایاں ہے۔فرمانے لگے اس کمزوری کے باوجود آج رات میں نے نماز تہجد میں طویل سورتیں پڑھی ہیں۔حضرت عبداللہ ابن ابی قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: الوفاء باحوال المصطفى للجوزى باب التهجد ) 147