ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 141 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 141

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”آپ کی پہلی عبادت وہی تھی جو آپ نے غارِ حرا میں کی۔جہاں کئی کئی دن ویرانہ پہاڑی کی غار میں جہاں ہر طرح کے جنگلی جانور اور سانپ چیتے وغیرہ کا خوف ہے دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور میں عبادت کرتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے۔قاعدہ ہے کہ جب ایک طرف کی کشش بہت بڑھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دور ہو جاتا ہے" (ملفوظات جلد چہارم صفحه 322) نبوت کا پیغام ملا تو آپ پر نماز فرض ہوئی آپ مکہ کے بلند حصے میں تھے جہاں پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا حضرت جبرائیل نے وضو کیا پھر آنحضرت صلی علی کرم نے اسی طرح وضو کیا۔بعد ازاں حضرت جبرائیل نے آپ کو ساتھ لے کر نماز پڑھی اور غائب ہو گئے (اس کشفی نظارہ کے بعد) آنحضرت صلی اللہ علم حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے ان کے سامنے وضو کیا اور ساتھ لے کر نماز پڑھی جس طرح حضرت جبرائیل نے پڑھی تھی۔(السيرة النبويه لابن هشام جز1 صفحہ 243 مطبوعہ مصر) ابتدا میں نماز ایک نفلی رنگ رکھتی تھی کچھ مسلمان مل کر ایک عام عبادت کے رنگ میں نماز ادا کر لیتے تھے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللی علم اور حضرت علی مکہ کی کسی گھائی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک اس طرف سے ابو طالب کا گزر ہوا۔ابو طالب کو ابھی تک اسلام کی کوئی خبر نہ تھی اس لئے وہ کھڑا ہو کر نہایت حیرت سے یہ نظارہ دیکھتا رہا جب آپ نماز ختم کر چکے تو اس نے پوچھا ” بھتیجے یہ کیا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے ؟" آنحضرت صلی علیم نے فرمایا ”چا! یہ دین الہی ہے اور دین ابراہیم ہے“ (سیرت خاتم النبيين" صفحہ 144) مکی دور میں ہی حضرت جبریل نے نبی کریم صلی للی ملک کو پانچوں نمازوں کی امامت کروا کے نماز کا طریق اور اوقات سمجھا دیئے تھے۔(ترمذی کتاب الصلوة باب (113) حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں نہایت جرات سے بے دھڑک ہو کر خانہ خدا کا طواف کرتے اور وہاں اپنے طریق پر عبادت کیا کرتے تھے۔قریش مکہ آپ کو دیکھ کر غصے سے پاگل ہو جاتے ہمارے بتوں 141