ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 140 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 140

قسط 24 کیفیت نماز حضرت محمد مصطفی صلی الی یوم کے دل میں فطری طور پر اپنے معبود سے عشق ودیعت کیا گیا تھا۔ہوش سنبھالی تو اپنے ماحول میں مشرکانہ طور طریق سے بیزار رہنے لگے۔انسانی ہاتھوں سے گھڑے ہوئے لکڑی، پتھر ، مٹی اور دھات کے بت عبادت کے لائق نہ لگے کسی بھی گروہ یا مکتبہ فکر کے پاس خدائے واحد کا تصور نہ تھا دین ابراہیمی کا نام تو باقی تھا مگر تعلیمات پر عمل کرنے والے نایاب تھے۔اب قلب محمدصلی الیہ کلام کو ایک طاقتور توانا خدا کی کھوج لگ گئی۔مظاہر قدرت پر تدبر کرنے لگے۔دنیا اور اس کے جھمیلوں سے بیزاری بڑھنے لگی۔تنہائی میں معبود کی تلاش میں زیادہ وقت گزرنے لگا۔سکون خانہ کعبہ میں ملتا یا غار حرا کی خلوت میں۔جوں جوں قدرت آپ صلی اللہ ہم پر اپنے راز ظاہر کر رہی تھی آپ کی ملی یکم محبت الہی، ذکر الہی اور عبادت میں سرشار رہنے لگے مکہ والے کہتے عشقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّه - محمد تو اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔عبادت کا ذوق رگ و پے میں سرایت کیا ہوا تھا۔بعثت سے پہلے کی کیفیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے شروع شروع میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو وہ رویائے صالحہ کی شکل میں ہوتا تھا یعنی خوابیں وغیرہ آیا کرتی تھیں۔آپ رات کے وقت جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہو جاتا تھا۔پھر آپ کو خلوت اچھی لگنے لگی تو آپ غار حرا میں بالکل اکیلے، کئی کئی راتیں خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے اور جتنے دن آپ وہاں قیام کرتے آپ اپنا زاد راہ ساتھ لے جاتے اور جب یہ ختم ہو جاتا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس تشریف لاتے اور کھانے پینے کا مزید سامان ساتھ لے کر دوبارہ غار حرا میں چلے جاتے اور عبادتوں میں مشغول ہو جاتے۔یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ کے پاس حق آ گیا۔(بخاری۔کتاب بدء الوحی۔باب کیف كان بدء الوحی الی رسول الله ) چکے خدا تعالیٰ سے محبت نے آپ کو نڈر اور جرات مند بنا دیا تھا اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو تھے کہ آپ کو اس تنہائی سے خوف نہ آتا بلکہ اس میں پوری لذت اور ذوق پاتے۔یہ نہیں کہ گھر میں سکون نہیں تھا۔حضرت خدیجہ جیسی جاں نثار بیوی اور بچوں کی نعمت سے جنت جیسا گھر تھا مگر آپ کی اعلیٰ لذات اپنے خدا کی عبادت میں تھیں۔رض 140