ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 102
(بخاری کتاب الجمعه حديث نمبر (1073) فرضیت کے بعد رمضان کے علاوہ شعبان کے مہینے میں بھی اکثر روزے رکھتے (بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر 1834) مہینے کے نصف اول میں اکثر روزے رکھتے اور مہینے میں تین دن معمولاً روزہ رکھتے بالعموم مہینے کے پہلے سوموار اور پھر اگلے دونوں جمعرات کے دن روزہ رکھتے (مسلم کتاب الصيام حدیث نمبر (1972) آپ کی ایام فرماتے تھے کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں (ترمذی باب الصیام ) اس کے علاوہ محرم کے دس اور شوال کے چھ روزے بھی رکھتے۔روزے اس طرح بھی رکھتے کہ گھر تشریف لاتے اگر کھانے کو کچھ نہ ہوتا تو روزہ کی نیت کرلیتے۔(ترمذی باب الصیام ) آنحضرت علی ایک روزہ رکھنا اسقدر پسند فرماتے تھے کہ بعض اوقات بغیر سحری کھائے روزے کی نیت فرمالیتے اور کئی دن تک یہی تسلسل رہتا مگر دوسروں کو اس طرح وصال کے روزے رکھنے کی از راہ شفقت اجازت نہ دیتے اس کی جو وجہ بیان فرمائی وہ آپ کے اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کا بہت حسین اظہار ہے۔آپ نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔میں رات ایسی حالت میں گزارتا ہوں کہ میرے لئے ایک کھلانے والا ہوتا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا ہوتا ہے جو مجھے پلاتا ہے۔“ (بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر 1963) روزوں میں معمولات کے بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ: نبی صلی ال یکی نیکی میں لو گوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔جب حضرت جبرئیل آپ سے ملتے اور حضرت جبرئیل رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تھے۔یہاں 102