ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 101 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 101

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 18 آنحضرت اور حضرت مسیح موعود کی روزے سے محبت مصطفی پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے روزه اطاعت الہی کی ایک مشق ہے۔اپنی ضروریات، خواہشات، توجہات کو رضائے الہی کے ماتحت کرنے کے لئے نفس کا مجاہدہ ہے۔قربانی کا حوصلہ ہے۔گناہوں کا کفارہ ہے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے ڈھال ہے۔نفس کی پاکیزگی کے لئے ہمہ وقت تسبیح، تحمید، ذکر الہی، نوافل، نماز، تہجد، تلاوتِ قرآن کی ترغیب ہے۔انفاق فی سبیل اللہ ، صدقہ و خیرات کا تعامل ہے۔شر سے حفاظت اور خیر کے حصول کی ضمانت ہے اور کھانے میں اعتدال اور کمی سے روحانیت اور ملائک جیسی خصوصیات کا تعارف ہے۔کما حقہ روزے رکھنا بفضل الہی اللہ تبارک تعالیٰ کے قرب کا حصول ہے۔سید المرسلین صلی المی روحانیت کی ہر راہ کے رہبر کامل ہیں۔آپؐ پر تزکیہ نفس کے لئے جو بھی احکام الہی نازل ہوتے پہلے آپ خود اس پر تمام تر باریکیوں کے ساتھ عمل فرماتے۔آپ کا اسوہ حسنہ اصولی اور عملی تعلیم کا کامل نمونہ ہے۔آپ صلی الی ٹیم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزہ فرض کئے ہیں اور میں نے اپنی سنت کے ذریعے اس کے قیام کا طریق بتا دیا ہے۔پس جو شخص حالت ایمان میں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے روزے رکھے گا اور قیام کرے گا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا (سنن نسائی کتاب الصوم حدیث نمبر 2180) آپ کو اس عبادت سے اس قدر شغف تھا کہ خاص اہتمام سے کثرت سے روزے رکھتے۔نبوت کے بعد مکہ میں جبکہ ابھی روزے کی فرضیت کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے آپ کئی مہینوں تک مسلسل روزے رکھتے رہے۔جب روزے رکھتے تو لگتا اب کبھی ناغہ نہیں کریں گے۔پھر روزہ چھوڑ دیتے تو لگتا کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔101