راکھا — Page 133
فِيمَا افْتَدَتْ به یعنی اس صورت میں اگر تمہاری رائے بھی یہی ہو کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے یعنی قضا نے بھی دیکھ لیا کہ فی الواقعہ دونوں کا قصور ہے صرف مرد ہی قصور وار نہیں بلکہ عورت بھی قصور وار ہے تو اس صورت میں اگر عورت سے کچھ دلوا کر اُن میں جدائی کروا دی جائے جسے اصطلاحاً خلع کہتے ہیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۱۶) ایک اور ضروری امر گھر کے نگران کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ علیحدگی کی صورت میں اپنی بیوی کی کسی خامی کا چرچہ کرنا نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔ایک عرصہ تک وہ اُس کا لباس تھی اور دونوں ایک دوسرے کے بہت سے پوشیدہ امور کے محافظ تھے۔اب اگر کسی وجہ سے وہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریاں اور خامیاں لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھریں۔۔رضاعت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِلَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَا َر وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ ، وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَا لَّا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا (البقره (۲۳۴) ترجمہ: ” اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس (مرد) کی خاطر جو رضاعت ( کی مدت) کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔اور جس (مرد) کا بچہ ہے 133