راکھا

by Other Authors

Page 134 of 183

راکھا — Page 134

اُس کے ذمہ ایسی عورتوں کا نان نفقہ اور اوڑھنا بچھونا معروف کے مطابق ہے۔کسی جان پر اُس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ماں کو اُس کے بچے کے تعلق میں تکلیف نہ دی جائے اور نہ ہی باپ کو اُس کے بچے کے تعلق میں۔اور وارث پر بھی ایسے ہی حکم کا اطلاق ہوگا۔پس اگر وہ دونوں رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانے کا فیصلہ کر لیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ ہیں۔“ اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: وَعَلَى الْمَوْلُودِلَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ میں کھانے اور کپڑے سے مراد تمام اخراجات ہیں نہ کہ صرف روٹی اور لباس۔اور معروف سے مراد باپ کی مقدرت ہے کہ امیر اپنی طاقت کے مطابق دے اور غریب اپنی طاقت کے مطابق۔اس جگہ عام دودھ پلانے والی عورتوں کا ذکر نہیں بلکہ ماؤں کا ذکر ہے اور یہ ذکر طلاق کے ضمن میں کیا گیا ہے کہ اگر دودھ پلانے والی عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ کی خاطر عورت کیلئے یہ ضروری ہے کہ بچے کو دودھ مقررہ مدت تک پلائے اور اس کے بدلہ میں خاوند پر فرض ہے کہ عام مزدور عورت کی طرح نہیں بلکہ اپنی توفیق کے مطابق اُسے خرچ دے۔کیونکہ یہ امرعورت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہو گا کہ ایک طرف تو اُسے مجبور کیا جائے کہ وہ طلاق کے بعد بھی بچہ کو دودھ پلاتی رہے اور دوسری طرف اُسے ایسی حالت میں رکھا جائے جو پہلی حالت سے ادنی ہو اور اُس کیلئے ذلت کا موجب ہو۔مگر اس کے ساتھ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا کہہ کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ مرد سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی طاقت سے زیادہ خرچ کرے یہ بھی نامناسب ہے اور عورت 134