راکھا

by Other Authors

Page 89 of 183

راکھا — Page 89

تجھ میں فلاں فلاں عیب ہیں تو پھر عورت خدا سے کیا ڈرے گی۔جب تقوی نہ ہو تو ایسی حالت میں اولا د بھی پلید پیدا ہوتی ہے۔اولا د کا طیب ہونا تو طیات کا سلسلہ چاہتا ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر اولا دخراب ہوتی ہے۔اس لئے چاہئے کہ سب تو بہ کریں اور عورتوں کو اپنا اچھا نمونہ دکھلا دیں۔عورت خاوند کی جاسوس ہوتی ہے وہ اپنی بدیاں اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا۔نیز عورتیں چھپی ہوئی دانا ہوتی ہیں۔یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ احمق ہیں۔وہ اندر ہی اندر تمہارے سب اثر وں کو حاصل کرتی ہیں۔جب خاوند سید ھے رستہ پر ہو گا تو وہ اس سے بھی ڈرے گی اور خدا سے بھی۔ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک دنیا میں نہیں ہے اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔سب انبیاء اولیاء کی عورتیں نیک تھیں اس لئے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔جب مرد بد کار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں۔خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے؟ الرجال قوامون علی النساء اسی لئے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں۔جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بدمعاشی سے وہ حصہ لیں گی۔( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۲۱۷-۲۱۸) 89