راکھا

by Other Authors

Page 87 of 183

راکھا — Page 87

فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔عورت تو در کنار اور بھی کون ہے جو صرف قال سے کسی کی مانتا ہے۔اگر کوئی مرد کوئی بھی یا خامی اپنے اندر کھے گا تو عورت ہر وقت اس پر گواہ ہے۔اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔غرضیکہ مرد کا اثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اُسے خبیث اور طیب بناتا ہے۔اسی لئے لکھا ہے۔الْخَبِيثَتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثُتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَتِ : ( النور۲۷) اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنو ورنہ ہزار ٹکریں مارو کچھ نہ بنے گا۔جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔بھلا جب خاوند رات کو اُٹھ اُٹھ کر دعا کرتا ہے روتا ہے تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اُسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متاثر ہوگی۔عورت میں متاثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیرہ ہوتے ہیں تو عورتیں اُن کے ساتھ عیسائی وغیرہ ہو جاتی ہیں۔اُن کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی کچھ اثر اس پر نہیں ہوتا۔خدا نے مرد عورت دونوں کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں۔اُن کو چاہئے کہ عورتوں 87