راکھا

by Other Authors

Page 63 of 183

راکھا — Page 63

اور پھر اسے ادا کرنا بھی ضروری ہے۔فقہ احمدیہ میں ایک عمومی راہنمائی کی گئی ہے جس کے مطابق مرد کی کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال کی آمدنی کے مطابق مہر کی رقم تجویز کی گئی ہے۔جو امیر لوگ ہیں اور جائیدادوں کے مالک ہیں انہیں اپنی حیثیت کے مطابق مقرر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام سے دریافت کیا گیا کہ مہر کتنا ہو تو آپ نے فرمایا: تراضی طرفین سے جو ہو اُس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے۔ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لئے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے۔صرف ڈراوے کیلئے یہ لکھا جاتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں۔نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۹۴) بعض لوگ ساری عمر مہر ادا نہیں کرتے اور یہی چاہتے ہیں کہ بیوی معاف ہی کر دے۔بعض لوگ بیوی کی وفات کے وقت اُسے کہتے ہیں کہ مہر بخش دو۔اب اُس وقت تو اُس بیچاری نے بخشا ہی ہوتا ہے۔یہ بہت ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔یہ درست ہے کہ بیوی اگر بخشا چاہے تو ایسا کر سکتی ہے لیکن اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرد پہلے اُسے ادا کرے اور پھر کچھ مدت کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے معاف کرتے ہوئے واپس کر دیتی ہے تو ٹھیک ہے۔یہ درست نہیں کہ ادائیگی کرنے کے بغیر ہی اُسے مجبور کیا جائے کہ وہ معاف کر دے۔کئی عورتیں جانتی ہیں کہ دینا تو اس نے ہے نہیں چلو معاف ہی کر دو۔یہ بھی دراصل اُن کی شرافت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سوال ہوا کہ ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔اس پر حضور نے فرمایا: 63