راکھا

by Other Authors

Page 51 of 183

راکھا — Page 51

وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا اتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِى أخْدَانِ (المائدہ آیت (۶) ترجمہ : ” اور پاکباز مومن عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاکباز عور تیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہیں جبکہ تم انہیں نکاح میں لاتے ہوئے ان کے حق مہر ادا کرو، نہ کہ بدکاری کے مرتکب بنتے ہوئے اور نہ ہی پوشیدہ دوست بناتے ہوئے۔“ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرماتے ہیں: وو نکاح کی نسبت اللہ کریم فرماتا ہے کہ اس سے غرض صرف مستی کا مٹانا ہی نہ ہو بلکہ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسْفِحِین کو مدِ نظر ر کھے اور ہر ایک بات میں اس خدا کے آگے جس کے ہاتھ میں مال جان ، اخلاق و عادات اور ہر ایک طرح کا آرام ہے بہت بہت استغفار کرے اور بے پرواہی سے کام نہ لے خواہ وہ انتخاب لڑکوں کا ہو یالڑکیوں کا کیونکہ بعد میں بڑے بڑے ابتلاؤں کا سامنا ہوا کرتا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه (۱۵) قرآن کریم کی اس آیت میں خاص طور پر یورپ کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمارے لئے بہت ہی واضح پیغام موجود ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآنی اصطلاح میں اہلِ کتاب۔سے مراد صرف یہود اور نصاریٰ ہیں۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے یہ پہلو نہایت اہمیت کا حامل ہے اس لئے اس کی کچھ مزید تفصیل کیلئے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رُسُوْلُ اللَّهِ صَلَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِاَرْبَعِ لِمَالِهَا وَ لِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ( بخاری ) 51