راکھا

by Other Authors

Page 52 of 183

راکھا — Page 52

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بیوی کے انتخاب میں عموماً چار باتیں مدنظر رکھی جاتی ہیں۔بعض لوگ تو کسی عورت کے مال و دولت کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور بعض لوگ عورت کے خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے شادی کے خواہاں ہوتے ہیں اور بعض لوگ عورت کے حسن و جمال پر اپنے انتخاب کی بنیا د ر کھتے ہیں۔اور بعض لوگ عورت کے دین اور اخلاق کی وجہ سے بیوی کا انتخاب کرتے ہیں۔سواے مرد و ! تم دین دار اور با اخلاق رفیقہ حیات چن کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کرو ورنہ تمہارے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔،، 66 اس حدیث کی تشریح میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بتانے کے بعد کہ دنیا میں عام طور پر بیوی کا انتخاب کن اصولوں پر کیا جاتا ہے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے انتخاب میں دین اور اخلاق کے پہلو کو مقدم رکھا کریں آپ فرماتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ان کی اہلی زندگی کامیاب اور بابرکت رہے گی۔ورنہ خواہ وہ سطحی اور عارضی خوشی حاصل کر لیں انہیں کبھی بھی حقیقی اور دائمی راحت نصیب نہیں ہو سکتی۔آنحضرت ﷺ کا یہ مبارک ارشاد نہایت گہری حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مسلمانوں کی اہلی زندگی کو بہترین بنیاد پر قائم کرنے کا رستہ کھولا گیا ہے بلکہ ان کی آئندہ نسلوں کی حفاظت اور ترقی کا سامان بھی مہیا کیا گیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ دوسری اقوام تو الگ رہیں خود مسلمانوں میں بھی آج کل کثیر حصہ ان 52