راکھا — Page 38
اللہ تعالیٰ نے گھر کے رکھوالے کو بھی زمیندار ہی قرار دیا ہے۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمُ (البقره (۲۲۴) ترجمہ: ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔جب عورتیں کھیتیاں ہیں تو ظاہر ہے مرد زمیندار ہیں۔قبل ازیں درج شدہ قَومُونَ والی آیت کو ذہن میں رکھیں تو یہ آیت عین اُس کے مطابق ٹھیک بیٹھتی ہے۔نظام دُنیا چلانے کیلئے جس طرح یہ ضروری تھا کہ جسے رکھوالی کی صلاحیتیں دی گئی ہیں بھی اُسے ہی مقرر کیا جاتا اُسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ جسے گھر کا مقرر کیا گیا تھا اُسے اُس کھیتی سے ذاتی تعلق اور لگا ؤ بھی ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک جیسی صلاحیتیں اور طاقتیں عطا نہیں کیں اس لئے زمیندار کا حاصل بھی مختلف ہوتا ہے۔اچھی کھیتی باڑی ، مناسب نگہداشت اور بہتر فصل کیلئے جہاں زمیندار کی ذاتی صلاحیت اور محنت بنیادی کردار ادا کرتی ہیں وہاں اس کا کھیتی پر بھی انحصار ہوتا ہے۔بعض اوقات زمین تو بہت زرخیز ہوتی ہے مگر زمیندار ہی کاشت کاری کے بنیادی اصولوں کو نہیں جانتا اور نہ ہی مناسب محنت کرتا ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ زمین ہی بنجر ہوتی ہے۔وہاں نہ تو ہل چلتا ہے اور نہ ہی پانی اثر کرتا ہے۔اس صورتِ حال میں ایسی زمینوں میں پھر اُونٹ کٹارے ہی اُگتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ زمیندار اپنی خدا داد صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے اور زمین میں موجود صلاحتیوں سے فائدہ اٹھائے تا کہ بہترین فصل پیدا ہو۔38