راکھا — Page 35
گھر کا انصاف کا تقاضا ہے کہ ذمہ داری اُسے دی جائے جو اُس کا اہل ہے۔قرآنِ پاک میں ذکر آتا ہے کہ جب وقت کے ایک نبی نے لوگوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو اُن کیلئے بادشاہ مقرر فرمایا ہے تو اُنہوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ اسے اُن سے زیادہ مالی وسعت نہیں دی گئی اس لئے وہ کیسے بادشاہ ہو سکتا ہے اور یہ کہ وہ لوگ بادشاہت کے زیادہ حقدار ہیں۔اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُط وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقره ۲۴۸) ترجمہ : ” اُس (نبی) نے کہا۔یقیناً اللہ نے اُسے تم پر ترجیح دی ہے اور اسے زیادہ کر دیا ہے علمی اور جسمانی فراخی کے لحاظ سے۔اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا 66 ہے اور اللہ وسعت عطا کرنے والا ( اور ) دائی علم رکھنے والا ہے۔“ ( ترجمه از حضرت خلیلة امسیح الرابع) اللہ تعالیٰ کا انتخاب غلط نہیں ہوسکتا لیکن اکثر لوگ اُس کی حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔لوگوں نے بادشاہت کیلئے مالی فراخی کو معیار سمجھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزد یک اُس مقام و مرتبے کیلئے اصل معیار علمی اور جسمانی فراخی تھا۔حضرت مصلح موعودؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : 35 55