راکھا — Page 36
دو دولت سے بادشاہت نہیں ہوتی بلکہ علم اور قربانی کی طاقت سے ہوتی ہے سوان دونوں باتوں میں وہ تم سے بڑھا ہوا ہے۔وہ تم سے زیادہ علومِ آسمانی جانتا ہے اور خدا کی راہ میں اپنے جسم کو انتہائی ابتلاؤں میں ڈالنے کیلئے تیار ہے۔یہاں جسم میں وسعت سے مراد موٹا ہونا نہیں بلکہ قوت برداشت اور قربانی کی قوت مراد ہے ( حاشیہ تفسیر صغیر) اس مثال کا مقصد قارئین کی توجہ اس اہم اصول کی طرف مبذول کرانا ہے جو اس میں بیان ہوا ہے۔ایک بادشاہ بھی رعایا پر نگران ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس ذمہ داری کیلئے اپنے انتخاب کی وجہ بھی بیان فرما دی ہے اور ہمارے لئے ایک رہنما اصول بھی۔ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے مناسب حال طاقتوں اور صلاحتیوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ خود کسی کو کوئی ذمہ داری دیتا ہے تو وہ لازماً اُس کا اہل ہوتا ہے۔بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ کے اصول کی روشنی میں گھر کے نگر ان کیلئے مردوں اور عورتوں کی صلاحیتیوں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ خالق حقیقی نے جسمانی قوتوں اور دینی و دنیوی علوم اور مقام ومرتبہ میں مردوں کو عورتوں پر واضح برتری عطا فرمائی ہے جس پر تاریخ انسانی گواہ ہے۔قبل ازیں مردوں کی جس عظیم الشان فوقیت کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اُس کی رو سے انصاف کا یہی تقاضا تھا کہ گھر یلوزندگی میں بھی انہیں ہی نگران مقرر کیا جاتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کی اسی فضیلت کی وجہ سے ہی اُنہیں گھروں کا بھی نگران مقرر فرمایا ہے۔ارشادِ خداوندی ہے: الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَّ بِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (النساء ۳۵) 36