راکھا

by Other Authors

Page 32 of 183

راکھا — Page 32

ہو جاتے ہیں اور گھریلو زندگی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔“ (اسلام اور عصرِ حاضر کے مسائل کا حل صفحہ ۱۱۸ - ۱۲۰) بحیثیت انسان مرد اور عورت کے حقوق کا معاملہ ہرگز متنازع نہیں ، یہ دونوں کے برابر ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں لیکن جہاں تک ذمہ داریوں کے اعتبار سے حقوق کا تعلق ہے تو نہ ہی ان کی صلاحیتیں اور طاقتیں ایک جیسی ہیں اور نہ ہی حقوق و فرائض۔پس ہمیں مغربی دُنیا کے عورت اور مرد میں ” مساوات کے کھو کھلے اور کاغذی نعروں سے ہرگز متاثر نہیں ہونا چاہئے اور ان کے حقوق و فرائض کے بارے میں اسلام کی پر حکمت تعلیم کو بڑی جرأت اور تفصیل کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔اس وضاحت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسلام کی رو سے ذمہ داریوں کے اعتبار سے مرد کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کی ذمہ داریاں مختلف ہیں اسی طرح دونوں کے حقوق بھی ایکدوسرے سے مختلف ہیں۔اسلامی تعلیمات کچھ اس طرح فطرت کے عین مطابق اور حسین ہیں کہ ان کے مطالعہ سے روح وجد میں آجاتی ہے اور ہزار جان سے قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔انسانی زندگی کی مثال تو ایک درخت کی طرح ہے جس کی کئی شاخیں ہوتی ہیں مکمل تعلیم وہی کہلا سکتی ہے جو افراط و تفریط سے پاک ہو اور ہر شاخ کی پرورش کرے تا کہ تو ازن قائم رہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تعلیم ایسے طرز عمل کی طرف رہنمائی کرنے والی ہو جس میں وقتی فوائد اور لذات ہی پیش نظر نہ ہوں بلکہ اُس میں نتائج اور عواقب کو بھی مد نظر رکھا گیا ہو۔مثال کے طور پر اگر برابر کے مواقع مہیا کرنے کے شوق میں جوان لڑکیوں کو فوج میں بھرتی کرنا شروع کر دیں اور اُن سے مردوں کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے فرائض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے تو اول تو یہ ہر گز ممکن ہی نہیں کہ وہ محاذ جنگ پر مردوں کی سی کار کردگی کا مظاہرہ کرسکیں اور دوم ان کے ایک ساتھ رہنے 32