راکھا

by Other Authors

Page 31 of 183

راکھا — Page 31

اس کی کہیں زیادہ اہل ہے۔مزید برآں فطری طور پر بھی عورت پر بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔یہ ایسی ذمہ داریاں ہیں جن میں مرد محض جزوی طور پر ہی عورت کے ساتھ شریک ہوسکتا ہے۔عورتوں کو یہ حق ملنا چاہئے کہ وہ مردوں کے مقابلہ میں اپنا زیادہ وقت گھروں میں گزار سکیں۔لیکن جب انہیں روزی کمانے کی ذمہ داری سے آزاد رکھا جاتا ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ لازماً اپنے فارغ وقت کو اپنی اور معاشرہ کی فلاح بہبود کیلئے خرچ کریں۔عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیم یہی ہے۔اسی وجہ سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ عورتیں ہمیشہ باورچی خانہ یا گھر کی چار دیواری کے اندر قید رہیں۔اسلام کسی بھی طرح عورتوں کو اس حق سے محروم نہیں کرتا کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں کسی کام کی انجام دہی کیلئے گھروں سے باہر جائیں یا وہ اپنی پسند کے کسی صحت مند شغل میں حصہ لیں مگر شرط صرف یہ ہے کہ عورتوں کی ان سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے اصل فرائض کی ادائیگی یعنی آئندہ نسل کی نگہداشت متاثر نہ ہو اور ان کی یہ زائد مصروفیات مستقبل کی نسلوں کے مفاد کے تحفظ اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں حارج نہ ہوں۔چنانچہ دیگر وجوہات کے علاوہ اس وجہ سے بھی اسلام عورتوں کی حد سے زیادہ سماجی سرگرمیوں میں شمولیت اور مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی کرتا ہے۔اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ عورت کی سرگرمیوں کا اصل مرکز اس کا گھر ہونا چاہئے۔دورِ جدید کی بہت سے برائیوں کا یہ ایک بہت دانشمندانہ اور عملی حل ہے۔اگر گھر عورت کی دلچسپی کا مرکز نہ رہے تو بچے نظر انداز 31