راکھا

by Other Authors

Page 161 of 183

راکھا — Page 161

ان کے پاؤں تلے سے بچوں کیلئے جہنم تو پیدا ہو سکتی ہے ، ان کو جنت نصیب نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان ماؤں کے بچے گستاخ ہو جاتے ہیں جن کی مائیں خاوند سے گستاخ ہوں۔ان کے بچے صرف خاوند سے ہی گستاخ نہیں ہوتے بلکہ ماں سے بھی گستاخ ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے یہ سوچ کر، غور کرنے کے بعد میں نے یہی سوچا ہے کہ ایسے خاوندوں بیچاروں کو تو میں نصیحت نہیں کر سکتا ، ان کا یتیم تو اب موت ہی دور کر سکتی ہے۔عورتوں کو نصیحت کرنی چاہئے اور ان کی بھلائی میں ہے یہ بات۔“ (الفضل انٹر نیشنل ۲۶ مارچ تا یکم اپریل ۱۹۹۹ء) برابر کا بدلہ مردوں کا عموماً دینی اور دنیاوی امور میں زیادہ کردار ہوتا ہے۔سخت محنت اور مشقت اٹھا کر اپنے اہلِ خانہ کیلئے روزی کماتے ہیں اور دیکھا جائے تو دُنیا کا اکثر کارو بارا نہی کے گردگھومتا ہے۔ضرورت پڑنے پر اپنے ملک وقوم اور دین کی خاطر جان تک دے دیتے ہیں۔اسی طرح مال ، اوقات اور اپنی دیگر صلاحیتیوں کی قربانی بھی زیادہ پیش کرتے ہیں۔اس لئے خیال گزرتا ہے کہ آخرت میں بدلہ بھی انہیں ہی زیادہ ملے گا۔لیکن یہ خیال درست نہیں۔وہ خدا جس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے وہ انسان کے پورے حالات ، طاقتوں اور صلاحیتیوں کو دیکھ کر اجر دیتا ہے۔روز قیامت فطرت کے مطابق سلوک ہوگا۔کیفیت کو دیکھا جائے گا نہ کہ کمیت کو۔اپنے حالات اور طاقتوں کے لحاظ سے جتنا کام بھی عورتیں کرتی ہیں وہ نتیجہ کے لحاظ سے مردوں کے برابر ہو جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک غریب بڑھیا دو آنے چندہ دے کر ایک امیر 161