راکھا

by Other Authors

Page 136 of 183

راکھا — Page 136

ہے۔اور یہ بھی مطلب ہے کہ اُس بچہ کے حصہ میں سے خرچ دیا جا سکتا ہے۔بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمدن کی ایک نئی بنیاد رکھی ہے۔کہ کمزور بچوں کی تربیت بطور حق ورثاء پر ڈال دی ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب دو دوھ پلایا جا چکے تو پھر وہ بچوں کو لاوارث چھوڑ دیں بلکہ اس حق کو بلوغت تک ممند کرنا پڑے گا اور اُن کا فرض ہوگا کہ وہ بچہ کے کھانے اور لباس کے اخراجات کے علاوہ اس کے تعلیمی اخراجات بھی بالغ ہونے تک پورے کریں اور اُس کی اعلیٰ درجہ کی تربیت مد نظر رکھیں تا کہ وہ قوم کا ایک مفید وجود بن سکے۔۔۔فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے متعلق دودھ پلانے یا چھڑانے کا فیصلہ قرآن کریم نے نہ مرد کے اختیار میں رکھا ہے نہ عورت کے اختیار میں بلکہ دونوں کو مشتر کہ اختیار دیا ہے۔شاید تمام شرائع کی تاریخ میں یہ منفر د مثال ہے کہ اس طرح اہلی معاملات میں میاں بیوی کو ایک مقام پر کھڑا کر کے برابر کے اختیار دیے گئے ہیں۔ہاں یہ شرط ضرور ہے کہ ودھ پلانے کی جو مدت قرآنِ کریم نے مقرر کی ہے اس سے زیادہ دیر تک دودھ پلانے پر نہ خاوند مجبور کر سکتا ہے ، نہ عورت زور دے سکتی ہے۔جب طلاق کے بعد بھی عورت کے جذبات کا اسقدر خیال رکھنے پر خاوند کو مجبور کیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ جو عورت نکاح میں ہو ان امور میں اُس کے جذبات کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک کس قدر ضروری ہوگا۔( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۲۶-۵۲۷) 136