راکھا

by Other Authors

Page 137 of 183

راکھا — Page 137

حسن سلوک بعد از وفات اسلامی تعلیمات میں مر د کو نکاح سے موت تک زندگی کے مختلف حالات میں سے گزرتے ہوئے ہر قدم پر اپنی رفیقہ حیات سے نیک سلوک کرنے کی تلقین پائی جاتی ہے جس کا کسی حد تک ذکر کیا جا چکا ہے۔عورتوں سے حُسنِ سلوک کی اس قدر تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون مقرر فرما کر مردوں کے قرابت داروں کو پابند کر دیا ہے کہ اُن کی موت کے بعد بھی اُن کی بیویوں سے نیک سلوک کرنا ہے اور انہیں کم از کم ایک سال تک گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں کرنا۔ہاں اگر عدت ( چار مہینے اور دس دن گزرنے کے بعد وہ اپنی مرضی سے خود جانا چاہیں تو انہیں اختیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لَّا زُوَاجِهِمْ مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجِ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقره ۲۴۱) ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں ، اُن کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ (اپنے گھروں میں ) ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں۔ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو وہ خود اپنے متعلق کوئی معروف فیصلہ کریں۔اور اللہ کامل غلبہ والا (اور ) صاحب حکمت ہے۔137