راکھا

by Other Authors

Page 135 of 183

راکھا — Page 135

سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ایک نوکر کی طرح طلاق کے بعد ایک عرصہ گھر میں گذار دے، یہ بھی نامناسب ہے۔لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ماں اپنے بچہ کی وجہ سے باپ کو ضرر نہ دے اور یہ بھی کہ ماں اپنے بچے کی وجہ سے ضرر نہ دی جائے۔اس آیت میں مرد اور عورت دونوں کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ بچہ کو ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔بہت سے نادان اس حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو بچے ہلاک ہو جاتے ہیں یا اُن کی تربیت خراب ہوتی ہے۔اس قسم کا فعل در حقیقت قتل اولا د کے مشابہ ہے اور قرآن کریم نے اس سے روک کر آئندہ اولادوں پر احسانِ عظیم کیا ہے۔وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ کا عطف وَعَلَى الْمَوْلُودِلَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ پر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب حق قائم کیا ہے جو تمدن کی صورت ہی بدل دیتا ہے۔اور حکم دیا گیا ہے کہ اگر باپ مر جائے تو باپ کے جو ورثاء ہوں اُن پر بچہ کو دودھ پلانے والی عورت کا خرچ ہوگا۔گو یا ورثہ کے ساتھ بوجھ بٹانے کا کام بھی اُن کے سپر د کر دیا۔خواہ اُنہیں ترکہ ملا ہو یا نہ ملا ہو۔تھوڑا ہو یا بہت۔چنانچہ فرمایا وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ وارث پر بھی ویسا ہی حق ہے جیسا کہ باپ پر۔یعنی باپ کا وارث خواہ لڑکا ہو خواہ کوئی قریبی رشتہ دار اس پر یہ خرچ واجب ہوگا۔یعنی اُس کا پرورش کرنا احسان کے طور پر نہیں ہو گا بلکہ ایک حق کے طور پر ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر واجب کیا گیا 135