راکھا

by Other Authors

Page 8 of 183

راکھا — Page 8

اسلامی تعلیمات کی رو سے مرد کو گھر کے یونٹ میں نگران مقرر کیا گیا ہے۔اس کتاب کے مصنف مکرم مقصود احمد علوی صاحب نے نگران کا ترجمہ ” کیا ہے جو ایک پنجابی لفظ ہے۔کتاب کا بھی انہوں نے یہی نام رکھا ہے اور اس کی وجہ بھی خود ہی عرض حال میں بیان کر دی ہے۔اگر کسی گھر کا اپنی خدا داد صلاحتیوں کو بروئے کار لا کر اپنے فرائض صحیح طور سے ادا کرتا ہے تو امید کی جاتی ہے کہ اُس گھر کے معاملات کامیابی کے ساتھ درست سمت میں چلیں گے۔اس لئے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ گھریلو زندگی کی کامیابی کا زیادہ تر دارو مدار گھر کے راکھے کے درست طرز عمل پر ہے۔اسلامی تعلیمات کی یہ خوبی اسے دیگر مذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اس کے ہر حکم کے ساتھ اس کی حکمت بھی بیان کر دی گئی ہے۔گھر میں خاوند کو نگران مقرر کئے جانے کی وجوہات بھی اسلام نے بیان کی ہوئی ہیں جو قوانین فطرت کے عین مطابق ہیں۔مصنف نے مرد اور عورت میں مساوات اور مرد کو گھر کا نگران مقرر کئے جانے کی حکمت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔مثال کے طور پر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت کے فرائض کی مختلف نوعیت اُن میں بعض مختلف قسم کی قوتوں اور صلاحیتوں کے پائے جانے کی وجہ سے ہے۔مرد سے قوت افاضہ کا ظہور ہوتا ہے جبکہ عورت میں قوت استفاضہ پائی جاتی ہے۔یہ ایسی مدلل اور دلچسپ بحث ہے کہ قاری اسلامی تعلیمات کی حقانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔کتاب میں ایک اچھے خاوند کی خصوصیات اور اُس کے فرائض قرآن وسنت اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام وخلفائے احمدیت کی روشنی میں بڑی شرح وبسط سے بیان کئے گئے ہیں اور خاوند کو حاکم کی بجائے ایک ایسے ذمہ دار راکھے یعنی محافظ اور سر پرست کے طور پر پیش کیا گیا جو نہایت شفیق اور مہربان ہے۔اس کے بعد ایک الگ باب میں بیوی کے فرائض کا تفصیلی بیان ہے جو ظاہر ہے خاوند کے حقوق ہیں۔ہر دو قسم کے فرائض کے مطالعہ کے دوران 8