راکھا — Page 9
ایک خاوند جہاں ایک طرف خود پر ذمہ داریوں اور جوابدہی کا بوجھ محسوس کرتا ہے تو دوسری طرف اُسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ اُس کی بیوی کوئی ملازمہ یا با ندھی نہیں بلکہ اُس کی شریک حیات اور ہمسفر ہے اور گھریلو زندگی کی گاڑی کو کامیابی سے منزل کی طرف گامزن رکھنے میں اُس کا بھی نہایت اہم کردار ہے۔اسی طرح بیوی میں جہاں ایک طرف ایک صابرہ، قانتہ اور گھریلو امور کی حفاظت کرنے والی خاتون کا احساس بیدار ہوتا ہے تو دوسری طرف اُسے اپنے اصل مقام اور ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ایک نہایت دلچسپ اور اہم باب اس کتاب میں کریں نہ کریں“ کا بھی ہے جس کی تفصیلی فہرست میں خاوند اور بیوی دونوں کو بعض امور کے کرنے اور بعض سے اجتناب کا مشورہ دیا گیا ہے جو پڑھنے والوں کیلئے ناصرف دلچسپی کا موجب ہو گا بلکہ معمولات زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے میں بھی اس سے مدد ملے گی۔اس کے بعد کتاب میں ایک مضمون ” چادر بھی شامل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کیلئے اُس کا خاوند بمنزلہ چادر کے ہوتا ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو یہ چادرسر سے نہ اتر نے پائے۔یہ مضمون خاص طور پر اُن خواتین کو دعوت فکر دیتا ہے جو مغرب کی بعض عورتوں کے طرز عمل سے متاثر ہو جاتی ہیں۔کتاب حرف آخر پر ختم ہوتی ہے جس میں مضمون کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ کتاب خاوندوں اور بیویوں کیلئے یکساں مفید اور وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کے نیک ثمرات پیدا فرمائے اور اللہ کرے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھتے ہوئے ان پر عمل کر کے اپنے گھروں کو جنت بنانے والے ہوں۔آمین۔شمشاداحمد قمر مربی سلسله 9