راکھا

by Other Authors

Page 79 of 183

راکھا — Page 79

انسان کو اسی اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح تم اپنی کھیتی کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ تم عورت کی بھی حفاظت کرو۔آئندہ نسل کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ دو تا کہ تمہاری کھیتی سے ایسا روحانی غلہ پیدا ہو جو دنیا کے کام آئے اور انہیں ایک نئی زندگی بخشے۔وَقَدِّمُوا لَا نُفُسِكُم میں بتایا کہ تم وہ کام کرو جس کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا نکلے۔یعنی ظاہری لحاظ سے بھی اور نسلی لحاظ سے بھی۔یہ حصہ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمُ کے مشابہ ہے اور مراد یہ ہے کہ آج کے بچے کل کے باپ بننے والے ہیں۔اس لئے تم ایسی اولاد پیدا کرو جو تمہارے نام کو روشن کرنے والی ہو اور آخرت میں بھی تمہاری عزت اور نیک نامی کا موجب ہو۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ۵۰۴-۵۰۵) عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یہ ایسی بات ہے کہ گویا تمام فرائض کی جان ہے۔مرد کی تمام ذمہ داریاں اسی حکم خداوندی کے گردگھومتی ہیں۔اس حکم کی احادیث میں بہت زیادہ تاکید مذکور ہے۔مطلب اس کا یہ ہے کہ عورتوں سے اچھا سلوک کروں۔کہنے کو تو یہ چند الفاظ ہیں لیکن انہوں نے مرد کو ہر جہت سے پابند کر دیا ہے۔آئے روز میاں بیوی کو بیسیوں قسم کے حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔بعض اوقات گھر میں تلخیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔اختلافات ہو جاتے ہیں۔ناراضگیاں ہو جاتی ہیں۔بچوں کی وجہ سے، رشتہ داروں کی وجہ سے ، اخراجات کی وجہ سے۔بچوں کی شادیوں کی وجہ سے اور خوشی غمی کے مواقع پر شرکت کی وجہ سے کشید گیاں جنم لیتی ہیں اور بعض اوقات بڑھ جاتی ہیں۔79