راکھا

by Other Authors

Page 77 of 183

راکھا — Page 77

عورتوں کے ساتھ شادی کیا کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرنے والی اور اپنے خاوندوں کے ساتھ محبت کرنے والی ہوں۔کیونکہ میں دوسرے نبیوں کی امتوں کے مقابل پر اپنی امت کی کثرت پر قیامت کے دن فخر کرونگا۔(۲) عورتوں سے ایسا سلوک کرو کہ نہ اُن کی طاقت ضائع ہو اور نہ تمہاری۔اگر کھیتی میں بیج زیادہ ڈال دیا جائے تو بیج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھیتی سے پے در پے کام لیا جائے تو کھیتی خراب ہو جاتی ہے۔پس ہر کام ایک حد کے اندر کرو۔جس طرح ایک منظمند انسان سوچ سمجھ کر کھیتی سے کام لیتا ہے۔اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ بعض حالات میں برتھ کنٹرول بھی جائز ہے۔چنا نچہ کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معا دوسری بو دی جائے تو دوسری فصل اچھی نہیں ہوتی اور تیسری اُس سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔اسلام نے اولاد پیدا کرنے سے روکا نہیں بلکہ خود فرمایا ہے کہ قدموا لَا نُفُسِكُم تم اپنی عورتوں کے پاس اس لئے جاؤ کہ آگے نسل چلے اور تمہاری یاد گار قائم رہے لیکن ساتھ ہی بتا دیا کہ کھیتی کے متعلق خدا تعالیٰ کے جس قانون کی تم پا بندی کرتے ہو اسی کو اولاد پیدا کرنے میں بھی مد نظر رکھو۔اگر عورت کی صحت مخدوش ہو یا بچہ کی پرورش اچھی طرح نہ ہوتی ہو تو اس وقت اولاد پیدا کرنے کے فعل کو روک دو۔(۳) یہ بھی بتایا کہ عورت سے ایسا تعلق رکھو جس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو۔اس سے خلاف وضع فطرت فعل کی ممانعت نکل آئی۔چونکہ قرآنِ کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس لئے وہ بات کو اُسی حد تک ننگا کرتا ہے جس حد تک اخلاق کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو۔لوگ أَنَّى شِئْتُم سے غلط استدلال کرتے ہیں۔حالانکہ یہ الفاظ کہہ کر تو خدا نے ڈرایا ہے کہ یہ تمہاری 77