راکھا

by Other Authors

Page 76 of 183

راکھا — Page 76

مناسب رقم ہر ماہ اپنی اہلیہ کو دینی چاہئے جس کا پھر حساب نہ لیا جائے۔وہ اسے جہاں چاہے استعمال کرے۔موخر الڈ ک طریق استعمال کرنے والے مرد یا یوں کہنا چاہئے کہ جو اپنی بیوی کے گھر میں اس طریق پر عمل کرنے پر مجبور ہیں بقول حضرت خلیفتہ المسیح الرابع بے چارے یتیمی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ان کا ذکر مردوں کے فرائض میں نہیں بلکہ حقوق میں آئے گا۔کھیتی کی حقیقت سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۴ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِانْفُسِكُمْ۔ترجمہ: ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔پس اپنی کھیتیوں کے پاس جیسے چاہو آؤ۔اور اپنے نفوس کیلئے ( کچھ ) آگے بھیجو۔‘ اس آیت کا صرف اتنا مطلب ہے کہ عورتیں بقائے نسل کا ذریعہ ہیں اور جس طرح کھیتی میں فصل پیدا ہوتی ہے اسی طرح عورت بچوں کو جنم دیتی ہے۔اس لئے ارشادِ خدا وندی ہے کہ ان سے حصول اولا د کیلئے بطریق احسن برتاؤ کرو۔لیکن بعض ظالم طبع لوگ ” پس اپنی کھیتیوں کے پاس جیسے چاہو آؤ کے الفاظ سے نہ صرف غیر فطری تعلقات کا جواز نکالتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرد کو آزادی دی گئی ہے کہ ان سے جیسا سلوک چاہے کرے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت میں عورت کو کھیتی قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ (۱) تم اپنی کھیتی کو پھلدار بنانے کی کوشش کرو۔اسی کی طرف رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بھی اشارہ فرماتی ہے کہ تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِى مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ (ابوداؤ دو نسائی کتاب النکاح) یعنی تم ایسی 76