راکھا

by Other Authors

Page 75 of 183

راکھا — Page 75

کہ جس چیز کی ضرورت ہو بتا دیا کرو۔(۴) بعض مرد حضرات ایسے بھی سننے میں آئے ہیں کہ پورا مہینہ کام کرتے ہیں اور جب تنخواہ ملتی ہے تو گن کر پوری کی پوری بیوی کے ہاتھ ہیں یا پر رھ در یوں کہنا چاہئے کہ وہ رکھوا لیتی ہے اور پھر خود اپنے چائے پانی وغیرہ کے اخراجات بھی بیوی سے مانگ مانگ کے پورے کرتے ہیں۔اس سلسلے میں کوئی ایک اصول تو مقرر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی ایک طریق ہر گھر میں چل سکتا ہے۔ہر ایک کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں۔بعض خواتین تو ایسی ہوتی ہیں کہ ادھر اُن کے ہاتھ میں رقم آئی اور اُدھر وہ بازار گئیں۔انہیں خریداری کا گویا شوق بلکہ جنون ہوتا ہے۔مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی کئی دفعہ مزید کے مطالبات مرد کو سننا پڑتے ہیں۔لیکن بعض خواتین نہایت سلیقہ شعار سمجھدار اور سگھڑ ہوتی ہیں۔سوچ سمجھ کر اور صرف ضرورت کی اشیاء خریدتی ہیں اگر ممکن ہو تو پس انداز بھی کر لیتی ہیں اور کسی بڑی ضرورت کے وقت مرد کو پیش کر دیتی ہیں۔ایسی دور اندیش اور سمجھدار عورتوں پر پھر مر د بھی مکمل اعتماد کرتے ہیں۔اگر حالات اجازت دیں اور ممکن ہو تو اول الذکر طریق استعمال کیا جانا زیادہ مناسب ہے۔عورت فطرتا چاہتی ہے کہ اُس کی جیب میں رقم ہو جسے وہ خود استعمال کرے اور ضرورت کی چیزیں خریدے۔اُسے ہر روز رقم مانگنے کی کوفت سے آزاد کرنا چاہئے۔دوسری بات یہ کہ اُس پر مرد کو اعتماد کرنا چاہئے اور حساب طلب نہیں کرنا چاہئے لیکن اخراجات پر کنٹرول کی یاددہانی بہر حال مرد کی ذمہ داری ہے۔تیسرے نمبر پر درج طریق سراسر زیادتی ہے۔یہ کسی بھی پہلو سے درست نہیں کہ گھر کی عورت کے پاس کوئی نقد رقم نہ ہو۔وہ بھی گھر کی مالکہ ہے کوئی نوکرانی نہیں۔لیکن اگر خاتونِ خانہ کے مخصوص حالات کے تحت کسی مرد کو یہ طریق استعمال کرنا پڑے تو بھی اُسے ایک 75